لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 204
204 تھے۔ظہر کی اذان کے بعد حضور جلد ہی مسجد مبارک میں تشریف لے آتے اور احباب جماعت کے ساتھ بیٹھ کر دینی گفتگو شروع فرما دیتے۔حضور کے پاس بیٹھنے والوں کو حضور کی طرف سے ایک اعلی قسم کی بھینی خوشبو آتی تھی جو عام خوشبوؤں سے نرالی اور عجیب ہوتی تھی۔۲۸ ۱۹۰۲ء کے اوائل میں ایک عیسائی نوجوان عبدالحق نامی قادیان آ گئے۔وہ لاہور کے مشن کالج میں بی۔اے کے طالب علم تھے۔انہوں نے چند روز حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے مذہبی سوالات کئے اور تشفی ہو جانے کے بعد اسلام قبول کر کے حضور کے دست مبارک پر بیعت کر لی۔وہ قادیان میں تعلیم الاسلام ہائی سکول کے ٹیچر مقرر ہو گئے۔کچھ عرصہ بعد حضور نے ان کو پچاس روپے اپنی جیب سے دے کر فرمایا کہ ماسٹر صاحب! آپ لاہور جا کر کرتا ہیں خرید لائیں اور بی۔اے کے امتحان کی پرائیویٹ تیاری کر لیں کیونکہ مجھے یہ خیال آ رہا ہے کہ پادری لوگوں کو شماتت کا موقعہ نہ ملے اور وہ یہ نہ کہیں کہ مسلمان ہو جانے کی وجہ سے آپ کی ترقی رک گئی ہے۔چنانچہ ماسٹر صاحب نے لاہور جا کر کتا ہیں خرید لیں اور بی۔اے کی تیاری شروع کر دی۔اس کے بعد امتحان کے قریب آ جانے پر وہ لاہور میں میرے پاس آگئے۔کیونکہ وہ مشن کالج میں میرے کلاس فیلو رہ چکے تھے اور ان کے احمدی ہو جانے کے بعد مجھے ان سے محبت ہو گئی تھی۔جب وہ بی۔اے کا امتحان دے کر واپس قادیان گئے تو میں ان کے ساتھ گیا۔جب ماسٹر صاحب نے حضور سے مصافحہ کیا تو حضور نے ان سے پوچھا کہ آپ کے پرچے کیسے ہوئے ہیں۔انہوں نے عرض کیا کہ حضور پرچے تو معمولی ہی ہوئے ہیں۔اس پر حضور نے فرمایا کہ آپ کی کامیابی کے لئے بہت دعا کی ہے۔قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کی کامیابی کی بشارت بھی مل جائے۔مجھے پادریوں کی شماتت کا بڑا خیال ہے۔یہ سن کر ہم دونوں مسجد سے باہر آ گئے اور میں نے ماسٹر صاحب کو کہہ دیا کہ آپ انشاء اللہ ضرور کامیاب ہو جائیں گے۔اس کے بعد ماسٹر صاحب نے مجھے بتایا کہ حضور نے میری کامیابی کی بشارت بھی مجھے دے دی تھی۔چنانچہ کا میاب ہونے کے بعد بھی ماسٹر صاحب عرصہ تک تعلیم السلام ہائی سکول میں بطور ٹیچر کے ملازم