لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 203
203 سامنے تھی اور مولوی فضل الہی صاحب اس مسجد کے امام تھے جو بازار لنگے منڈی کی بڑی مسجد کہلاتی ہے۔ان بزرگوں سے آپ نے دینی تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ دنیوی تعلیم بھی حاصل کی اور پھر اسلامیہ سکول کی چوتھی جماعت میں داخلہ لیا۔آپ فرمایا کرتے ہیں کہ ان ایام میں دودھ دہی اور مٹھائی وغیرہ کی دوکانیں عموماً ہندوؤں ہی کی ہوا کرتی تھیں۔مگر جب لیکھرام کے قتل کے بعد بعض ہندو دکانداروں نے مسلمان بچوں کو مٹھائی میں زہر ملا کر دی تو مسلمانوں میں بیداری پیدا ہوئی اور انہوں نے اپنی دکانیں کھولنا شروع کر دیں۔آپ نے ۱۹۶۳ء کے جلسہ سالانہ ربوہ میں جو تقریر ” ذکر حبیب“ کے موضوع پر فرمائی۔اس میں فرمایا کہ پنڈت لیکھرام کے قتل کے بعد ” ہماری جماعت کے احباب کشی بازار والی مسجد میں (جو ان ایام میں جماعت احمدیہ کے پاس ہوا کرتی تھی۔مؤلف ) حضرت اقدس کی پیشگوئی دربارہ پنڈت لیکھرام کے پوری ہو جانے پر تقریریں کیا کرتے تھے۔میں اکثر قادیان جایا کرتا تھا اور عید کے دن تو لاہور کے اکثر احباب قادیان جا کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ نماز پڑھا کرتے تھے اور میں بھی ان کے ساتھ کبھی کبھی ہوتا تھا اور ہم لوگ حضور کے خطبہ سے مستفیض ہوا کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام گرمی کے موسم میں نماز مغرب کے بعد پرانی مسجد مبارک کی چھت پر اس کی غربی جانب کی سہ نشین پر رونق افروز ہوتے اور حضور کے دائیں جانب حضرت مولانا حکیم نورالدین صاحب اور بائیں جانب حضرت مولوی عبد الکریم صاحب ہوا کرتے تھے۔اس زمانہ میں حضور کھانا بھی اپنے مہمانوں کے ساتھ ہی تناول فرمایا کرتے تھے۔اگر کسی مہمان کے پاس سالن کم ہو جاتا تو حضور اپنے سامنے سے سالن کا زائد پیالہ اس کے سامنے بڑھا دیتے تھے۔حضور کھانا تو تھوڑا ہی کھاتے تھے۔روٹی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر کے شوربے کے ساتھ لگا لگا کر کھاتے تھے۔مسجد کی چھت پر جانے کے لئے لکڑی کے تختوں کی سیڑھی ہوتی تھی اور پیرانہ سالی کے باوجود اس کے دائیں بائیں بازو سے سہارا لئے بغیر ایک پہلوان کی طرح سیدھے اوپر چڑھتے تھے۔اس وقت حضور کے پاس گرم چادر یا ڈھہ ہوتا تھا جوحضور سہ نشین پر بیٹھنے سے پہلے اپنے نیچے رکھ لیتے