لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 201 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 201

201 موصوف ۱۷۔اگست ۱۹۲۵ء کو قادیان سے روانہ ہوئے اور ستمبر ۱۹۲۵ء میں سماٹرا پہنچ گئے۔شروع شروع میں آپ نے کوئی باقاعدہ مشن قائم کئے بغیر دو تین جماعتیں قائم کیں مگر مئی ۱۹۲۸ء میں ایک کرایہ کا مکان لے کر باقاعدہ مشن ہاؤس قائم کیا۔چار سال کام کرنے کے بعد حضرت اقدس کی ہدایت کے ماتحت آپ کچھ عرصہ کے لئے واپس قادیان پہنچے۔۱۹۔اکتوبر ۱۹۲۹ء کو آپ واپس تشریف لائے اور پھر حضور کے حکم سے ۶۔نومبر ۱۹۳۰ء کو دوبارہ عازم سماٹرا ہو گئے۔اس مرتبہ محترم جناب مولوی محمد صادق صاحب کنجاہی آپ کے ساتھ تھے۔حضرت اقدس کی ہدایات کے ماتحت کچھ عرصہ آپ مولوی صاحب موصوف کے ہمراہ سماٹرا میں رہے اور پھر انہیں سماٹرا چھوڑ کر آپ عازم جاوا ہو گئے۔وہاں بھی اللہ تعالیٰ نے آپ کو نمایاں کامیابی عطا فرمائی۔اسی اثناء میں ۸۔مارچ ۱۹۳۲ء کو جاپانیوں نے جزائر شرق الہند پر قبضہ کر لیا اور مشکلات اور تکالیف کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہو گیا تمام سیاسی اور مذہبی تنظیمیں حکماً بند کر دی گئیں۔اس زمانہ میں حضرت مولوی رحمت علی صاحب نے کئی ایک کتابوں کا انڈونیشین زبان میں ترجمہ کیا۔۱۹۳۵ء میں جب جاپانی حکومت کا خاتمہ ہوا تو ان کتابوں کا ترجمہ شائع کر دیا گیا۔نومبر ۱۹۴۹ء میں انڈونیشیا کی جماعتوں کی از سرنو تنظیم کرنے کے لئے حضرت مولوی رحمت علی صاحب کی صدارت میں تمام مبلغین کا پہلا اجتماع منعقد ہوا۔جس کے نتیجہ میں جماعت کے لئے قواعد و ضوابط مرتب کرنے کے لئے ایک کمیٹی بنائی گئی اور جب قواعد بن گئے۔تو ان کے مطابق ۹۔۱۰۔۱ دسمبر ۱۹۴۹ء کو جماعت ہائے انڈونیشیا کی پہلی سالانہ کانفرنس ” جا کر تیہ میں منعقد ہوئی جس کا سلسلہ (ایک سال کے وقفہ کے ساتھ ) اب تک جاری ہے۔اس طرح حضرت مولوی رحمت علی صاحب ایک لمبے عرصہ کے تبلیغی جہاد کے بعد ۳۰۔اپریل ۱۹۵۰ء کو واپس تشریف لائے۔یہ امر خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ حضرت مولوی رحمت علی صاحب بہت ہی سادہ مزاج بزرگ تھے۔خاکسار راقم الحروف نے ایک مرتبہ ان سے دریافت کیا کہ آپ راہ و رسم پیدا کرنے کے لئے کیا طریق اختیار کرتے تھے۔فرمانے لگے۔جو شخص مجھے آگے سے آتا ہوا ملتا میں اسے کہتا’ السلام علیکم ورحمتہ اللہ " وہ جواب میں کہتا ”وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ میں دریافت کرتا کہ آپ خوش ہیں“ وہ کہتا ”ہاں میں خوش ہوں، میں کہتا کس قدر خوش اس پر وہ ہنس پڑتا اور میری اس کے ساتھ دوستی قائم ہو جاتی۔