لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 200
200 بڑے بڑے لوگوں کے سامنے پیش کر کے انہیں اپنا ہمنوا بنا لیتے تھے۔آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے دوران میں آپ نے حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی قیادت میں بحیثیت سیکرٹری آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا رہائے نمایاں سرانجام دیئے۔۱۹۴۱ء سے لیکر ۱۹۴۳ء تک آپ نے دوبارہ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے سیکرٹری کے طور پر کام کیا اور پھر بعد ازاں وفات تک کسی نہ کسی نظارت کے انچارج رہے۔آپ نے میکلوڈ روڈ لاہور میں اپنی رہائش کے لئے مکان الاٹ کر وایا تھا۔چنانچہ آپ کے بچے یہیں رہائش پذیر ہیں۔مرحوم خاکسار کے ساتھ بہت ہی محبت سے پیش آیا کرتے تھے۔مرحوم کے والد بزرگوار حضرت ماسٹر قادر بخش صاحب لدھیانوی بھی حضرت اقدس کے صحابی تھے۔آپ کی وفات ۷۔دسمبر ۱۹۵۵ء کو ۶۳ سال کی عمر میں ربوہ میں ہوئی اور بہشتی مقبرہ ربوہ میں دفن ہوۓ_فانا لله وانا اليه راجعون۔اولاد: عطیہ۔رضیہ۔لطف الرحمن مرحوم ختم النساء - مجیب الرحمن۔نعیم الرحمن۔صفیہ۔نعیمہ۔عطاء الرحمن درد - حبیب الرحمن درد عیسی درد۔ہاجرہ درد۔قانتہ درد۔صالحہ حضرت مولوی رحمت علی صاحب رئیس التبلیغ انڈونیشیا ولادت : ۱۸۹۳ء بیعت: پیدائشی احمدی وفات : ۱۳۔اگست ۱۹۵۹ء عمر : ۶۵ سال حضرت مولوی رحمت علی صاحب رئیس التبلیغ انڈونیشیا حضرت بابا حسن محمد صاحب واعظ موصی نمبرا کے صاحبزادے تھے۔آپ کی پیدائش پر ابھی بمشکل دو سال ہی گزرے تھے کہ آپ کے والد محترم احمدیت میں داخل ہو گئے۔اس لحاظ سے آپ کا بچپن بھی احمدیت ہی میں گذرا اور پھر خاص طور پر قادیان میں کیونکہ آپ کے والد ماجد اپنے گاؤں اوجلہ ضلع گورداسپور سے ہجرت کر کے مستقل طور پر قادیان میں آگئے تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریک وقف زندگی میں اپنا نام پیش کر دیا تھا۔حضرت منشی عبدالعزیز صاحب اوجلوی آپ کے چا تھے۔آپ نے قادیان میں مولوی فاضل پاس کیا اور مدرسہ تعلیم الاسلام میں مدرس مقرر ہو گئے۔۱۹۲۵ء میں جب حضرت اقدس خلیفہ مسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے انڈونیشیا میں مبلغ بھیجنے کا ارادہ فرمایا تو حضور کی نظر انتخاب حضرت مولوی رحمت علی صاحب پر پڑی۔حضرت مولوی صاحب