لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 199
199 لیڈر خاص خاص مواقع پر مسجد احمد یہ لندن میں تشریف لا کر اپنے خیالات کا اظہار کیا کرتے تھے۔چنانچہ قائد اعظم محمد علی جناح جب گول میز کانفرنس کے بعد ہندوستان کے ہندو لیڈروں کی روش سے بیزار ہو کر لندن میں ہی مستقل طور پر قیام کا فیصلہ کر چکے تھے تو حضرت امیر المومنین خلیفة المسیح الثانی ایده اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے محترم مولانا در دصاحب کو لکھا کہ میری طرف سے مسٹر محمد علی صاحب جناح کو سمجھائیں کہ موجودہ حالات میں آپ جیسے درد دل رکھنے والے لیڈر کا ہندوستان کے مسلمانوں کو چھوڑ کر لندن جا کر بیٹھ رہنا مناسب نہیں۔آپ کو بہت جلد ہندوستان واپس پہنچ کر مسلمانانِ ہند کی سیاسی وو قیادت سنبھالنی چاہیئے اس اہم واقعہ کی تفصیل بیان کرتے ہوئے مولا نا در دفرماتے ہیں کہ: یہ بھی حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی کوششوں کا نتیجہ تھا کہ قائد اعظم نے انگلستان سے ہندوستان واپس آکر مسلمانوں کی سیاسی قیادت سنبھالی اور اس طرح بالآخر ۱۹۴۷ء میں۔۔پاکستان وجود میں آیا۔جب میں ۱۹۳۳ ء میں امام مسجد لندن کے طور پر انگلستان پہنچا تو اس وقت قائد اعظم انگلستان میں ہی سکونت رکھتے تھے۔وہاں میں نے ان سے تفصیلی ملاقات کی اور انہیں ہندوستان واپس آکر سیاسی لحاظ سے مسلمانوں کی قیادت سنبھالنے پر آمادہ کیا۔مسٹر جناح سے میری یہ ملاقات تین چار گھنٹے تک جاری رہی۔میں نے انہیں آمادہ کر لیا کہ اگر اس آڑے وقت میں جب کہ مسلمانوں کی رہنمائی کرنے والا اور کوئی نہیں ہے انہوں نے ان کی پھنسی ہوئی کشتی کو پار لگانے کی کوشش نہ کی تو اس قسم کی علیحدگی قوم کے ساتھ بے وفائی کے مترادف ہو گی۔چنانچہ اس تفصیلی گفتگو کے بعد آپ مسجد احمد یہ لندن میں تشریف لائے اور وہاں با قاعدہ ایک تقریر کی جس میں ہندوستان کے مستقبل کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کیا۔اس کے بعد قائد اعظم انگلستان کو خیر باد کہہ کر ہندوستان واپس آئے۔مسلم لیگ کو منظم کیا اور اس طرح چند سال کی جدو جہد کے بعد پاکستان معرض وجود میں آ گیا۔‘۲۷ اس قسم کی عظیم الشان خدمات بجا لا کر حضرت مولانا درد صاحب حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس کو چارج دے کر ۹۔نومبر ۱۹۳۵ء کو واپس قادیان پہنچ گئے۔مولانا در دصاحب کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس امر کا خاص ملکہ حاصل تھا کہ آپ اپنے نظریات کو