لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 183
183 حضرت نواب زادہ میاں محمد عبد اللہ خان صاحب ولادت : یکم جنوری ۱۸۹۵ء وفات : ۱۸ - ستمبر ۱۹۶۱ء حضرت نواب زادہ میاں محمد عبد اللہ خاں صاحب حضرت نواب محمد علی خاں صاحب رئیس مالیر کوٹلہ کے صاحبزادے تھے۔یکم جنوری ۱۸۹۵ء کو پیدا ہوئے۔نہایت ہی مخلص باپ کی وجہ سے عمدہ تربیت پائی۔آپ کے والد محترم چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ہی ہجرت کر کے قادیان آ گئے تھے۔اس لئے قادیان کی رہائش اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نگاہ لطف وکرم نے سونے پر سہا گہ کا کام دیا۔اور آپ نہایت ہی نیک ماحول میں پروان چڑھے۔اس پر مستزاد یہ کہ اپنے باپ کی طرح آپ کو بھی سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دامادی کا شرف حاصل ہوا۔آپ کی شادی حضرت اقدس کی سب سے چھوٹی صاحبزادی حضرت سیدہ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ سے ہوئی۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ میں اس رشتہ کو نعمت غیر مترقبہ سمجھتا ہوں اور پوری کوشش کرتا ہوں کہ اپنی بیگم صاحبہ کی ہر خواہش کو پورا کرنے کی سعادت حاصل کروں۔خاکسار جب ۱۹۳۵ء سے لے کر ۱۹۳۸ ء تک کراچی میں بطور مبلغ متعین تھا تو آپ اکثر میر پور خاص سے اپنے ضروری کاموں کی انجام دہی کے لئے کراچی تشریف لایا کرتے تھے اور عموماً رائل ہوٹل میں ٹھہرا کرتے تھے۔انجمن احمدیہ کا دفتر چونکہ وہاں سے بہت نزدیک تھا۔اس لئے آپ کوشش فرمایا کرتے تھے کہ نمازیں انجمن ہی میں آکر پڑھا کریں۔شام سے قبل سیر کو بھی ہم اکٹھے ہی جایا کرتے تھے۔ان ایام میں قریب رہنے کی وجہ سے مجھے آپ کی عظمت کا صحیح احساس ہوا۔آپ وجیہ اس قدر تھے کہ کراچی کے بعض بڑے بڑے آدمی جو مجھے جانتے تھے مجھے سے علیحدگی میں دریافت کیا کرتے تھے کہ یہ صاحب کون ہیں؟ میں جب انہیں بتا تا کہ آپ مالیر کوٹلہ کے رؤساء میں سے ہیں۔اور سینکڑوں مربعہ زمین کی جاگیر ضلع میر پور خاص میں رکھتے ہیں تو یہ کہتے کہ پھر یہ اسمبلی کی ممبری کے لئے کیوں کھڑے نہیں ہوتے۔اس پر میں انہیں بتا تا کہ انہیں دنیا کی جاہ وحشمت کی طرف قطعاً توجہ نہیں۔یہ اپنا فارغ وقت اکثر تبلیغ اسلام واحمدیت اور دیگر دینی کاموں میں صرف کرتے ہیں۔اس پر وہ لوگ حیران ہو جاتے اور بعض آگے بڑھ کر مصافحہ کا شرف بھی حاصل کرتے۔