لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 184
184 تقسیم ملک کے بعد لاہور میں بھی آپ سے فیض حاصل کرنے کے کافی مواقع میسر آتے رہے۔خصوصاً اس لئے بھی کہ ماڈل ٹاؤن کے احباب آپ کی زندگی میں آپ کی کوٹھی ۱۰۸ سی میں ہی نمازیں باجماعت ادا کر تے تھے اور میں بھی جب دورہ پر جاتا تو آپ سے مل کر بہت ہی خوشی ہوتی تھی اور آپ کی ایمان افزا باتیں سن کر ایمان کو ایک جلا حاصل ہوتی۔تبلیغ احمدیت میں آپ کو اس قدر شغف تھا کہ بیماری کے ایام میں بھی جب کوئی غیر از جماعت رشتہ دار یا دوست ملاقات کے لئے آتا تو اپنی تکلیف بھول کر اسے تبلیغ شروع کر دیتے۔اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے اس قدر شکر گزار تھے کہ ہر وقت ان کا تذکرہ آپ کی زبان پر جاری رہتا۔یخنی بھی بے حد تھے۔کسی غریب کی باتیں سن کر دل پگھل جاتا اور اپنی بساط سے بڑھ کر اس کی مدد کرنے کے لئے تیار ہو جاتے تھے۔اولاد کی تربیت کا بھی ہمیشہ خیال رہتا۔مجھے یاد ہے کہ جب میں نے حیات طیبہ" شائع کی تو اس کے چند دن بعد آپ کا ایک بچہ مجھے مال روڈ پر نہایت ہی تپاک سے ملا اور اپنا تعارف کروا کر کہنے لگا کہ ہمارے ابا جان نے آپ کی کتابیں خرید کر ہم سب بہن بھائیوں کی چار پائیوں کے سرہانے رکھوادی ہیں تا جب بھی ہمیں موقع ملے ہم ان کا مطالعہ کر کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حالات سے واقفیت حاصل کر لیں۔مجھے خوب یاد ہے۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ جب تک مسجد نہ ہو صحیح معنوں میں جماعت کی تنظیم نہیں ہو سکتی۔چنانچہ آپ نے ماڈل ٹاؤن کے احباب کے ساتھ یہ وعدہ کر رکھا تھا کہ آپ کی کوٹھی کے ساتھ ہی شمالی جانب جو زمین ہے۔اس کے حصول کی کوشش کر رہے ہیں۔اگر مل گئی تو آپ انشاء اللہ خود ہی مسجد بنوادیں گے۔مگر افسوس کہ آپ بہت جلد وفات پاگئے جس کی وجہ سے مسجد نہ بن سکی۔آپ کی ہمیشہ یہ خواہش رہتی تھی کہ میں جب بھی دورہ پر ماڈل ٹاؤن جاؤں شام کا کھانا ان کے ساتھ کھایا کروں۔مگر مجھے یہ دقت ہوتی تھی کہ واپسی کے لئے بس 9 بجے کے بعد نہیں ملتی تھی۔اس لئے اکثر میں معذرت کر دیتا تھا۔لیکن بعض اوقات کھانے میں شامل بھی ہو جا تا تھا۔آخری ایام کی ہی بات ہے کہ جب میں آپ کی کوٹھی سے بس کی طرف جانے لگا تو کچھ بارش ہوگئی۔اتفاقاً اس روز آپ کے گھر کی کچھ مستورات نے پام ویو کوٹھی حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کو جانا تھا۔آپ نے مجھے فرمایا کہ آپ بھی اسی کار میں چلے جائیں اور ڈرائیور کو جو آپ کا کوئی عزیز ہی تھا۔فرمایا کہ پہلے مسجد احمد یہ بیرون دہلی دروازہ جا کر انہیں پہنچانا اور پھر پام ویو۔اللہ اللہ ! کس قدر بلند اخلاق کے مالک وہ