لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 182 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 182

182 ہے۔کبھی اس کے سینکڑوں روپے بھی گم جائیں تو اسے پروانہیں ہوتی اور کبھی ایک سوئی گم ہو جائے تو بہت پریشان ہو جاتا ہے۔یہی حال میرا ہے۔یہ پین چونکہ کافی عرصہ میرے پاس رہا ہے اس لئے اس کے گم جانے کا مجھے بہت افسوس ہے جب ہم دکان پر پہنچے تو خدا کا شکر ہے کہ وہ پین مل گیا جس سے آپ کو بہت خوشی ہوئی۔کوٹھی پام ویو میں بھی متعدد مرتبہ آپ کی ملاقات کے لئے حاضر ہونے کا شرف حاصل ہوا۔شروع شروع میں تو آپ وہاں بھی ٹہلنا شروع کر دیتے تھے مگر آخری ایام میں جب تکلیف بڑھ گئی تو چلنا دشوار ہو گیا۔بلکہ پاؤں میں جوتا ڈالنا بھی تکلیف دیتا تھا اس لئے آپ اطلاع ملنے پر ننگے پاؤں ہی آہستہ آہستہ باہر تشریف لاتے تھے اور برآمدہ میں دو آدمیوں کے سہارے سے کرسی پر بیٹھ سکتے تھے مگر چہرہ پر پھر بھی بشاشت ٹپکتی نظر آتی تھی۔مجھے یاد ہے۔آخری ایام میں آپ نے مجھے فرمایا۔میرا دل چاہتا ہے کہ دو کتا ہیں تیار کروائی جائیں۔ایک شیعہ مذہب کی تاریخ اور دوسری ان مخالفین کے حالات پر مشتمل جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شدید مخالفت کی مگر خائب و خاسر ر ہے۔فرمایا۔ان کتابوں کے لئے خواہ کس قدر خرچ ہو۔میں دینے کے لئے تیار ہوں۔پھر فرمایا میرا یہ پیغام دفتر اصلاح وارشاد میں پہنچا دینا۔خاکسار نے آپ کا یہ پیغام انہی ایام میں تحریری طور پر پہنچا دیا تھا۔بلکہ مجھے یاد ہے ایک مرتبہ آپ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ ایک کتاب ایسے لوگوں کے حالات پر بھی لکھنی چاہیئے۔جنہوں نے گو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت نہیں کی مگر آپ کی تعریف میں رطب اللسان رہے جیسے سیالکوٹ کے مولانا میر حسن صاحب عربی پروفیسر مرے کالج سیالکوٹ۔میرا ارادہ تو یہ تھا کہ حضرت صاحبزداہ صاحب کے حالات کے سلسلہ میں وہ نوٹ ہی کافی ہے جو آپ کے مزار مبارک پر لکھا گیا ہے۔مگر آپ کا ذکر آنے پر رہ نہ سکا اور کئی ایک باتیں جو یاد آئیں وہ بھی لکھ دیں۔اولاد: صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب۔صاحبزادہ مرزا ظفر احمد صاحب۔صاحبزادہ مرزا داؤ د احمد صاحب۔صاحبزادی امتہ الود و د صاحبہ۔صاحبزادی امۃ الباری صاحبہ۔صاحبزادی امتہ الوحید صاحبہ