لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 170 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 170

170 زمانہ نہیں گذرا تھا کہ تمام بزرگ ناز برداریاں کرنے والے ایک ایک کر کے اٹھ گئے۔لاکھوں روپیہ کی جائیداد اور املاک اہل کاروں اور کارندوں نے متاع بے وارث سمجھ کر تباہ کر ڈالی۔اب ایسی مشکلات پیش آئیں کہ اس طباع اور ذہین اور ہونہار بچے کو تعلیم مجبوراً چھوڑنا پڑی۔میاں مرحوم اگر چہ ہوشیار تھے تاہم کم عمر تھے جب ملازموں نے ان کو اکیلا دیکھا تو اپنے ہاتھ پاؤں نکالے۔بہت سی جائیدار ضائع کر ڈالی اور جتنا کھا سکے کھا پی کر علیحدہ ہو گئے۔ابھی عمر ہی کیا تھی کوئی ایسا نہ تھا جو سر برا ہی کرتا۔نہ کسی قسم کا تجربہ تھا۔اس لئے ٹھیکیداری کی طرف متوجہ نہ ہوئے جو دو تین پشت سے بزرگوں کا پیشہ تھا۔مگر چونکہ ایک حد تک تعلیم سے بہرہ ور ہو چکے تھے۔اس لئے ملازمت کی طرف متوجہ ہوئے اور محکمہ نہر میں ابتداء ایک معمولی سی ملازمت اختیار کر لی اور تمام عرصہ ملازمت دفتر چیف انجنئیر محکمہ انہار میں گزار دیا اور اسی سے پنشن یاب ہوئے۔اکتالیس سال کی ملازمت اور ۱۴ سال پنشن پاتے رہے اور غالبًا آپ کو یک صد یا اس سے کچھ زیادہ پینشن ملتی تھی۔اپنے کام میں نہایت قابل، محنتی اور متدین مانے جاتے تھے۔جن حکام بالا دست کو آپ سے واسطہ پڑتا وہ ہمیشہ آپ کے مداح رہتے۔درآں حالیکہ با قاعدہ انگریزی تعلیم اعلیٰ درجہ کی حاصل نہ کی تھی۔مگر زبان دانی میں اتنی ترقی کی تھی کہ خاص انگلش نژادان کے ماتحت کر دیے جاتے تھے اور ان کو حکم دیا جاتا تھا کہ اپنے مسودات پہلے میاں چراغ دین سے اصلاح کرا لیا کرو اور تحریر میں ایسے خوشخط اور زود دنو لیس تھے کہ پنجاب بھر میں اپنے وقت میں مشہور تھے۔تمام حکام خاص طور پر آپ کے دیانتدار ایمان دار نیک دل ہوشیار محنتی، وفادار وغیرہ اخلاق و عادات کے قائل و شاہد تھے۔سرکاری کاغذات میں بھی یہ تمام تعریفیں آپ کی موجود ہیں۔عام طور پر یہ خیال کہ امراء کے بچے ابتداء میں بگڑ جایا کرتے ہیں اور جن خاندانوں پر ادبار آتا ہے۔ان کے پسماندے اپنی افتادگی کو بھی اوج افتخار خیال کیا کرتے ہیں۔لوگ ان کی حالت پر روتے اور وہ اپنی حالت پر فاخر ہوتے ہیں۔مگر میاں چراغ دین صاحب کی خوش قسمتی ان کے آڑے آئی اور قدرت کا ہاتھ ان کا معین ہوا۔متمول اور ذی وجاہت خاندان کے چشم و چراغ تھے۔ناز پروردہ تھے۔چھوٹی عمر