لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 171 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 171

171 میں بزرگ بھی سر سے اٹھ گئے تھے لیکن برخلاف بگڑنے کے ابتداء ہی میں مرحوم کو دینداری کی طرف توجہ تھی۔خوش قسمتی سے دوست بھی نیک اور دیندار ملے۔اور نیک لوگوں کے حالات اور تذکرے سننے کا شوق تھا۔اور جب سلسلہ ملازمت شروع ہوا اس وقت سے انہی لوگوں سے تعلقات رہے جن کو آپ دیندار سمجھتے تھے اور الہی بخش اکونٹنٹ اور عبدالحق وغیرہ سے بھی آپ کے تعلقات تھے۔ان ہی ایام میں حضرت صاحب سے بھی آپ کا تعلق موڈت پیدا ہوا۔براہین احمدیہ کے زمانہ تصنیف میں قادیان میں آئے اور حضور کے مہمان رہے اور حضور کے فیوض سے مستفاض ہوئے۔بشیر اول کا جب عقیقہ ہوا تو مدعوین میں آپ بھی تھے۔براہین کے مددگاروں اور خریداروں کے سلسلہ میں آپ کو عزت حاصل ہے۔الہی بخش وغیرہ تو کٹ گئے لیکن مرحوم کا پائے ثبات کبھی نہیں ڈگمگایا بلکہ محبت اور تعلق میں ہمیشہ بڑھتے رہے۔کیا ہی عجیب فقرہ تھا جو کل ۱۸۔مئی کو بعد نماز ظہر مسجد مبارک میں مرحوم کے عزیزوں کے سامنے سید نا حضرت خلیفتہ المسیح نے فرمایا کہ پرانی پارٹی میں سے تو یہی ثابت قدم رہے تھے اور پھر فرمایا کہ اگر ان ( میاں چراغ دین ) کی زندگی کا خلاصہ کیا جائے تو یہ ہے کہ اخلاص سے آئے اخلاص سے رہے اور اخلاص سے گئے۔جب حضرت اقدس نے دعویٰ مسیحیت فرمایا تو ایک دو سال تک بیعت میں متوقف رہے مگر وہ توقف کسی بدظنی یا بد گمانی کی بناء پر نہ تھا۔بالآ خر ۱۸۹۳ء میں سلسلہ بیعت میں داخل ہوئے اور جب بیعت کر لی تو پھر کبھی پیچھے نہیں ہٹے بلکہ مرتے دم تک محبت میں ثابت قدم اور اخلاص و عشق و فدائیت میں قائم و مستقیم رہے۔قدرت خداوندی دیکھئے۔آپ تو ابھی متوقف تھے مگر آپ کے بڑے سے چھوٹے صاحبزادے میاں عبدالعزیز صاحب نے ۱۸۹۱ ء میں اسی وقت بیعت کر لی۔جس وقت حضور نے اپنے دعویٰ کا اشتہار فرمایا۔میاں عبدالعزیز صاحب بڑے ہی محبت والے اور پیاری باتیں کرنے والے بزرگ ہیں۔لاہور کے بعض دوستوں نے بتایا کہ وہاں کی جماعت کا ایک حصہ ان ہی کے ذریعہ سلسلہ میں داخل حیح سن بیعت ۱۸۹۲ء ہے۔مؤلف