لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 169
169 ہو چکے تھے مگر جتنا عرصہ اس دور میں زندہ رہے۔عزت سے رہے اور جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے ۱۸۶۶ء میں قضا کر گئے۔لاہور شہر کے مخیر رئیس میاں محمد سلطان، میاں الہی بخش کے چھوٹے بھائی تھے اور ان کے والد کا نام میاں قادر بخش بن میاں پیر محمد بن میرزا محمد تقی بیگ تھا۔چونکہ دو تین پشت تک عمارتوں کے محلوں کی افسری اور عمارتی ٹھیکیداری اس خاندان میں رہی اس لئے عوام میں ان کی ذات معمار مشہور ہوگئی۔مگر اصل میں آپ کا خاندان مغل تھا اور آپ بابری چغتائی مغل نسل کی ایک شاخ ہیں۔اس خاندان میں پشتوں حکومت رہی اور اس خانوادے کے لوگ ممالک دکن و بنگال و پنجاب میں مختلف اوقات میں یا یوں کہو کہ جب زمانہ موافق تھا حکومت کے اعلیٰ مناصب پر فائز رہے لیکن سیاسی تغیرات اور زمانہ کی شاطرانہ چالیں جو طرفہ العین میں گداؤں کو شہنشاہ اور شہنشاہوں کو گدائے بے نوا بنا دیا کرتی ہیں اور جنہوں نے کتنے ہی خاندانوں کو مٹا دیا اور کتنوں کو خاک سے اڑا کر بلندی درجہ کی انتہائی چوٹی پر بٹھا دیا۔اس خاندان کے لئے گمنام ہونے کا موجب ہوئیں۔”میاں چراغ دین صاحب ابھی بچے ہی تھے کہ ان کی والدہ فوت ہوگئی تھیں۔اس لئے ان کی چچی نے اپنی گود میں لیا اور اپنے دودھ سے پرورش کیا۔مرحوم اپنی اس نیک نہاد چی کو ہمیشہ والدہ ہی سمجھتے رہے اور ماں سے زیادہ اس کی عزت کرتے رہے۔” جیسا کہ قبل ازیں ذکر ہو چکا ہے۔باوجود تغییرات اور انقلابات کے یہ خاندان دنیا وی حیثیت سے اچھی حالت میں رہا۔چنانچہ مرحوم کے دادا الہی بخش اور ان کے چھوٹے بھائی میاں محمد سلطان اور میاں عبدالرحمن اور ایک اور بزرگ میاں امام بخش جو ریاست دکن میں بیش قرار ماہوار تنخواہ پاتے تھے اور وہیں فوت ہوئے اور ان کی اولا د بھی وہیں ہے۔یہ لوگ بہت مرفہ الحال تھے۔چونکہ ان بزرگوں کے اولا د کم تھی۔یہی ایک پوتا تھا جوسب کی توجہ کا مرکز اور سب کے گھر کا چراغ تھا اس لئے سب مرحوم کے ساتھ محبت اور پیار کرتے۔اور ان کی ناز برداریاں کرتے تھے۔یہ وہ زمانہ تھا کہ انگریزی حکومت پنجاب میں ابھی قائم ہی ہوئی تھی۔اس لئے گویا دس سال کی عمر میں انگریزی تعلیم کے لئے مدرسہ میں داخل کئے گئے۔ذہانت اور حافظہ میں خاص طور پر ممتاز تھے۔ابھی تعلیم حاصل کرتے ہوئے کوئی بڑا