لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 168 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 168

168 ہیں۔چند یوم کے مہمان ہیں۔آپ نے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی خدمت میں دعا کے لئے لکھا۔ایک دن خواب میں دیکھا کہ ایک فرشتہ آیا ہے اس نے آپ کا سینہ چاک کیا۔پھیپھڑے نکال کر دکھائے جو بالکل گل سڑ چکے تھے۔پھر ان کو پھینک دیا اور ان کی بجائے صحیح و سالم پھیپھڑے رکھ دیئے۔اس رؤیا کے بعد آپ تندرست ہو گئے۔اور کئی۔سال عمر پائی اور طبعی موت سے وفات پائی“۔حضرت میاں چراغ دین صاحب ولادت: ۱۸۴۷ء بیعت : ۱۸۹۳ء وفات : ۱۶ مئی ۱۹۲۰ء حضرت میاں چراغ دین صاحب کے حالات کیلئے میں سب سے پہلے ”الحکم کا وہ مضمون درج کرتا ہوں جو آپ کا جنازہ لاہور سے قادیان لے جانے کے بعد معزز ایڈیٹر صاحب’الحکم“ نے شائع فرمایا: حضرت میاں چراغ دین صاحب کی پیدائش ۱۸۴۷ء میں ہوئی تھی۔آپ کے والد ماجدمیاں حسن دین صاحب ایک جری اور بہادر انسان حکومت وقت کے معزز رکن یعنی مہاراجہ شیر سنگھ کی فوج خاصہ کے سپہ سالار تھے۔جب میاں چراغ دین صاحب کے دادا میاں الہی بخش صاحب کا انتقال ۱۸۶۶ء میں ہوا تو میاں چراغ دین صاحب کے والد میاں حسن دین صاحب ملازمت ترک کر کے خانگی کاروبار اور اپنی جائیداد کے انتظامات میں مصروف ہو گئے مگر ان کا انتقال چھیالیس سال کی عمر میں سیالکوٹ میں ہوا۔اور وہیں سپرد خاک ہوئے۔” مرحوم میاں چراغ دین کے دادا میاں الہی بخش صاحب بھی اپنے وقت کی حکومت میں ایک معزز و مکرم عہدے پر سرفراز تھے۔یہ سکھوں کی حکومت کا زمانہ تھا۔مہاراجہ رنجیت سنگھ پنجاب پر حکمران تھے۔چنانچہ میاں الہی بخش صاحب مہا راجہ موصوف کے محکمہ عمارات کے وزیر اعلیٰ تھے۔جب حکومت میں تغیر و تبدل ہوا اور انگریزوں کو حکومت پنجاب قدرت کے ہاتھوں سے ملی۔اس وقت اگر چہ میاں الہی بخش مرحوم اپنے سرکاری عہدے سے علیحدہ