لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 167
167 ملتا تھا۔چنانچہ اسی کا نتیجہ ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے سلسلہ کے لئے ایک خاص جوش دیا ہے جو ان کے مضمون سے ظاہر ہے“۔آپ نے اپنے اخلاص کا بہترین مظاہرہ اس وقت کیا جب خلافت اولیٰ کی ابتداء میں جناب خواجہ کمال الدین صاحب نے احباب لاہور کو اپنے مکان پر بلا کر ایک جلسہ کیا جس میں احباب کے دل میں یہ بات بٹھانے کی کوشش کی کہ حضرت خلیفہ امسیح الاوّل نے جو ا۳۔جنوری ۱۹۰۹ء کو قادیان میں ایک جلسہ طلب کیا ہے اور جس میں اس امر کا فیصلہ کیا جائے گا کہ خلافت اور انجمن کے جھگڑے کا صحیح حل کیا ہے۔اس جھگڑے کا صحیح حل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات مندرجہ رسالہ الوصیت کی رُو سے یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی حقیقی جانشین صدر انجمن ہے نہ کہ خلیفہ۔چنانچہ جناب خواجہ صاحب کی شخصیت سے مرعوب ہو کر جماعت کی اکثریت خواجہ صاحب کے ساتھ متفق ہو گئی تھی۔حضرت قریشی صاحب اور حضرت بابو غلام محمد صاحب فورمین نے اس معاملہ کو بھانپ لیا اور خواجہ صاحب کی طرف سے اس بارہ میں جو محضر نامہ تیار کیا گیا تھا اس پر دستخط کرنے سے صاف انکار کر دیا اور فرمایا کہ جب ہم نے ایک شخص کے ہاتھ پر بیعت کر لی ہے تو اب ہمارا کوئی حق نہیں کہ ہم خلیفہ کے اختیارات کے بارہ میں سوچنا شروع کر دیں۔خلیفہ اسیح ہم سے زیادہ عالم ہیں۔زیادہ نشیہ اللہ رکھتے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات کو سب سے زیادہ سمجھنے والے اور سب سے زیادہ مقرب صحابی ہیں لہذا جو فیصلہ خود حضور کریں گے ہم تو اسی پر عمل کریں گے۔چنانچہ جب ان ہر دو مخلصین کی طرف سے یہ آواز اٹھی تو بہت سے دوسرے احباب کی سمجھ میں بھی یہ بات آ گئی اور آہستہ آہستہ دستخط واپس لینے شروع کر دیئے۔پھر مورخہ ۳۱۔جنوری ۱۹۰۹ء کو قادیان میں جب حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے سلسلہ کے نمائندوں کے سامنے تقریر فرمائی تو غیر مبائعین کی غلط بیانیوں کا سارا تارو پودکھل گیا۔حضرت ان پر سخت ناراض ہوئے اور ان کے لیڈروں جناب مولوی محمد علی صاحب اور جناب خواجہ کمال الدین صاحب سے دوبارہ بیعت لی۔محترم مولوی محب الرحمن صاحب کا بیان ہے کہ: آخر عمر میں آپ بیمار ہوئے۔ڈاکٹروں نے کہہ دیا کہ پھیپھڑے بالکل گل چکے