لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 149
149 تھی۔وہ احباب جو جلسہ سالانہ ۱۸۹۲ ء میں شامل ہوئے مگر ان سے تفصیلی حالات کا علم نہیں ہوسکا ا۔حضرت منشی مظفر الدین صاحب کلرک ایگزامینز آفس لاہور ۲۔حضرت منشی محمد بخش صاحب کلرک ایگزامینر آفس لاہور ۳۔حضرت حاجی شہاب الدین صاحب لاہور ۴۔حضرت منشی محمد حسین صاحب کلرک ایگزامیز آفس لاہور۔ان کی رہائش اندرون موچی گیٹ ۵۔حضرت منشی کرم الہی بخش مدرس مدرسہ نصرت الاسلام لاہور۔ان کی رہائش تکیہ سا دھواں میں تھی۔۳۱۳ اصحاب میں بھی ان کا نام ہے۔۶۔حضرت میاں عبد اللطیف صاحب باغبانپورہ لاہور۔ولادت : ت حکیم فضل الہی صاحب رضی اللہ عنہ بیعت : ۹۳-۱۸۹۲ء وفات : ۸۔اپریل ۱۹۰۶ء حضرت میاں مغل صاحب فرمایا کرتے تھے کہ ایک مرتبہ ایک بوڑھے احمدی حکیم نے جن کا نام حکیم فضل الہی تھا اور وہ لاہور میں بمقام ستھاں رہا کرتے تھے، حضور سے سوال کیا کہ حضور ! بعض اوقات کنچنیاں جو بیمار ہوتی ہیں علاج کروانے آ جاتی ہیں۔اور کچھ نذرانہ بھی پیش کرتی ہیں۔کیا اسے قبول کر لینا چاہیئے یا نہیں۔فرمایا۔کہ آپ انہیں کچھ نصیحت کر دیا کریں اور ان سے لیا کچھ نہ کریں۔اس کے بعد حضور سے کسی نے عرض کیا کہ حضور اگر آپ کو کوئی چیز تحفہ پہنچے جو مال حرام سے ہو یا مشتبہ ہو تو آپ تو یہ تحقیق کرتے ہی نہیں کہ کیسی ہے؟ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ میرے تک حرام پہنچا تا ہی نہیں۔وہ راستے میں ضائع ہو جاتا ہے۔کیونکہ اگر میں تحقیق میں لگ جاؤں تو میرا عزیز وقت کافی ضائع ہو جائے۔اس لئے اللہ تعالیٰ خود ہی مجھ تک ایسی چیز نہیں پہنچنے دیتا جو حرام ہو۔یہ حکیم صاحب جن کا اوپر ذکر ہوا ہے بڑے مخلص اور جانثار صحابی تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے