لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 148
148 آئینہ کمالات اسلام میں آپ کا نام ان خوش قسمت اصحاب میں درج ہے جو۱۸۹۲ء کے جلسہ سالانه قادیان میں شامل ہوئے تھے۔اولاد: امتہ اللہ بیگم حمیدہ بیگم عبدالحمید خان صادقہ بیگم زبیدہ بیگم۔حضرت منشی عبد العزیز صاحب باغ بانپورہ (سابق فارسٹر ) ولادت: بیعت : ۱۸۹۲ ء یا اس سے قبل وفات: حضرت منشی عبد العزیز صاحب سکنہ باغبانپورہ لاہور (سابق فارسٹر ) کا نام اس فہرست میں شامل ہے جو ۱۸۹۲ء کے جلسہ سالانہ میں شامل ہوئے تھے۔حضرت ڈپٹی محمد شریف صاحب کا بیان ہے کہ ماسٹر عبد العزیز صاحب باغ بانپورہ کے رہنے والے تھے۔انجمن حمایت اسلام کے پرائمری سکول اندرون شہر کے ہیڈ ماسٹر تھے۔مخلص احمدی تھے۔میں ان ایام میں پرائمری سکول کا طالب علم تھا۔ان کے ایک لڑکے کا نام عبدالرحمن تھا۔جواے۔جی آفس سے ریٹائر ہونے کے بعد انجمن حمایت اسلام کے فنانشل سیکرٹری بھی رہے۔جناب ماسٹر احمد صاحب ( غیر احمدی) ولادت: وفات: جناب ماسٹر احمد صاحب لاہور کا نام بھی اس فہرست میں شامل ہے جو حضور نے جلسہ سالانہ ۱۸۹۲ء میں شامل ہونے والوں کی تیار کی تھی۔کلے حضرت ڈپٹی محمد شریف صاحب کا بیان ہے کہ ماسٹر احمد صاحب محکمہ ریلوے میں کلرک تھے۔ان کی شادی میاں کریم بخش صاحب ٹھیکیدار کی لڑکی سے ہوئی تھی۔پانی والا تالاب سے آگے جو مسجد ہے اور میاں کریم بخش والی مسجد کہلاتی ہے، یہ انہی میاں کریم بخش کی طرف منسوب ہے۔ماسٹر صاحب اہلحدیث گروہ کے ساتھ تعلق رکھتے تھے۔عالم آدمی تھے۔انجمن حمایت اسلام کے بھی رکن تھے۔میاں شمس الدین صاحب کے ساتھ بھی خاص تعلقات رکھتے تھے۔ماسٹر صاحب اور ان کے خسر میاں کریم بخش صاحب دونوں احمدی نہیں تھے۔البتہ شروع شروع میں اعتقادر رکھتے تھے۔ان کا ذکر یہاں اس لئے کیا گیا ہے کہ جلسہ ۱۸۹۲ء میں شامل ہونے کی وجہ سے انہیں بعد میں آنے والے احمدی نہ سمجھ لیں۔