لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 150
150 زمانہ میں مخالفین احمدیت کے سامنے ہر وقت سینہ سپر رہتے تھے۔سلسلہ کی تاریخ میں اس بات کا تفصیل سے ذکر آچکا ہے کہ جب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی پیر مہرعلی شاہ صاحب گولڑوی کے ساتھ بالمقابل تفسیر نویسی کے بارہ میں خط و کتابت ہوتی رہی تھی تو احباب لاہور کی ایک انجمن جس کا نام تھا انجمن فرقانیہ اور اس کے صدر حضرت حکیم فضل الہی صاحب سیکرٹری حضرت منشی تاج الدین صاحب اور جائنٹ سیکرٹری حضرت میاں معراج الدین صاحب عمر تھے نے خوب کام کیا۔پیر صاحب چونکہ حیلے بہانے سے اس مقابلہ کو ٹال رہے تھے اور لاہور کی پبلک کو مغالطہ میں ڈال کر حضرت اقدس کے خلاف مشتعل کر رہے تھے۔اس لئے اس انجمن نے ان ایام میں متعدد اشتہارات شائع کر کے لوگوں پر حقیقت حال کو واضح کیا تھا۔مالی قربانی میں بھی حضرت حکیم صاحب پیش پیش رہا کرتے تھے۔چنانچہ ریکٹوں کے خرچ میں کافی حصہ ان کا ہی ہوتا تھا۔قومی تحریکات میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ۱۳۔مارچ ۱۹۰۳ء بروز جمعتہ المبارک جب منارۃ المسیح کی بنیا در رکھنے کا وقت آیا تو حضرت حکیم صاحب موصوف مرزا خدا بخش صاحب شیخ مولا بخش صاحب اور قاضی ضیاء الدین صاحب نے حضور کی خدمت میں عرض کی کہ حضور آج "مینارة امسیح کی بنیا د رکھی جائے گی۔اگر حضور خود اپنے ہاتھ سے رکھیں۔تو بہت مبارک ہوگا۔اس پر حضور نے فرمایا۔آپ ایک اینٹ لے آئیں۔میں اس پر دعا کروں گا۔پھر جہاں میں کہوں وہاں جا کر رکھ دیں۔چنانچہ حکیم فضل الہی صاحب اینٹ لے آئے اور حضور نے اسے ران مبارک پر رکھ کر لمبی دعا فرمائی۔دعا کے بعد آپ نے اس اینٹ پر دم کیا اور حکیم صاحب موصوف سے ارشاد فرمایا کہ آپ اس کو ( مجوزہ) منارۃ المسیح کے مغربی حصہ میں رکھ دیں۔حضرت حکیم صاحب اور دوسرے احباب یہ مبارک اینٹ لے کر مسجد اقصیٰ میں پہنچے اور میاں فضل الدین صاحب معمار نے بنیا د کے مغربی حصہ میں اسے پیوست کر دیا۔۳۱۳۔اصحاب کی فہرست مندرجہ ” انجام آتھم ، میں آپ کا نام ۲۱۰ نمبر پر ہے۔نوٹ : بہشتی مقبرہ قادیان میں لاہور کے ایک صاحب فضل الہی کا کتبہ درج ہے۔سو اگر حضرت حکیم فضل الہی صاحب مراد ہوں تو ان کی وفات ۸۔اپریل ۱۹۰۶ ء کو ہوئی تھی۔واللہ اعلم بالصواب