لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 14
14 خاکسار سے چارج لیا۔اور چند سال آپ یہاں خدمات بجالاتے رہے۔بعدہ ۱۹۵۴ء سے پھر خاکسار یہاں بحیثیت مربی کام کر رہا ہے۔اس لحاظ سے خاکسار پر یہ فرض عائد ہوتا تھا کہ لاہور میں احمدیت کی نشاۃ اور اس کے پروان چڑھنے کے حالات قلمبند کرے تا بعد میں آنے والی نسلیں اپنے اسلاف کے عظیم کارناموں کو یاد رکھیں اور ان کے نقشِ قدم پر چل کر احمدیت کے بچے خادم ثابت ہوں۔آمین مجھے افسوس ہے کہ گذشتہ سال جب کتاب لکھنے کا خیال پیدا ہوا۔بہت کم ایسے لوگ تھے جو ابتدائی زمانہ میں وفات پا جانے والے صحابہ کے حالات سے بالتفصیل واقف ہوں۔خدا بھلا کرے حضرت میاں محمد شریف صاحب ریٹائر ڈائی۔اے۔سی کا جنہوں نے مجھے بعض ابتدائی صحابہ کے حالات سے آگاہ فرمایا۔ان کے بعد حضرت خلیفہ المسح الاول رضی اللہ عنہ اور حضرت خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے ابتدائی زمانہ میں وفات پا جانے والے بعض صحابہ کرام کے حالات مجھے محترم جناب ڈاکٹر عبید اللہ خاں صاحب بٹالوی نے بتائے۔فجزاهما الله احسن الجزاء لیکن اکثر صحابہ کے حالات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب اور اخبارات سلسلہ سے معلوم ہوئے۔اس جگہ اس امر کی وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے کہ صحابہ کرام کے حالات کا وہ حصہ جو دوسرے احباب سے سن کر لکھا گیا ہے یا روایات جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال کے کافی عرصہ بعد جمع کی گئی ہیں اپنے اندر غلطی کا احتمال رکھتی ہیں۔لہذا اگر حضرت اقدس کی کتب یا اس زمانہ کے لٹریچر سے یہ واقعات یا روایات ٹکرائیں، تو ہر گز قابل قبول نہیں ہوں گی۔دوسری عرض یہ ہے کہ اس مجموعہ میں بعض صحابہ کے حالات اور روایات بالکل مختصر ہیں اور بعض کے قدرے بالتفصیل۔اس سے یہ ہر گز نہیں سمجھنا چاہئے کہ جن صحابہ کے حالات زیادہ لکھے گئے ہیں وہ دوسروں سے افضل ہیں۔بالکل ممکن ہے کہ جن صحابہ کے حالات مختصر ہیں وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک زیادہ معزز اور مکرم ہوں۔بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ بعض صحابہ جو خدا تعالیٰ کے خاص مقربین میں سے ہوں ان کے اسماء کا علم نہ ہو سکنے کی وجہ سے ان کا ذکر نہ کیا گیا ہو۔لہذا احباب کرام کی خدمت میں درخواست ہے کہ اگر کسی صاحب کو یقینی شواہد کی بناء پر کسی صحابی کے حالات سنہ پیدائش سنہ بیعت اور سنہ وفات میں کوئی غلطی معلوم ہو تو وہ خاکسار مؤلف کو اطلاع دیں، آئندہ ایڈیشن میں انشاء اللہ شکر