لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 13 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 13

13 بسم الله الرحمن الرحيم نحمده و نصلّى على رسوله الكريم عرض حال لاہور کی تاریخ احمدیت لکھنے کا خیال محترم جناب چوہدری محمد اسد اللہ خاں صاحب امیر جماعت احمد یہ لاہور سے گذشتہ سال رمضان المبارک میں ایک موقعہ پر گفتگو کے دوران پیدا ہوا۔جوں جوں کتاب کی تکمیل قریب پہنچ رہی ہے اس تاریخ کی ضرورت واہمیت واضح ہوتی جارہی ہے اور یہ خواہش پیدا ہورہی ہے کہ دیگر مشہور اضلاع یا صوبجات جہاں جہاں مسیح الزمان کے دیوانوں نے ہر قسم کی جانی و مالی قربانیوں سے نہ صرف یہ کہ خود شمع احمدیت کو فروزاں کیا بلکہ اس کی برکات اور فیوض و انوار کو آئندہ نسلوں میں منتقل کرتے ہوئے انہیں بھی اس کا پروانہ بنا دیا۔ان علاقوں میں احمدیت کی سرگذشت کوئی دردمند دل قلمبند کر کے ابھی سے محفوظ کرلے ممکن ہے لاہور کی تاریخ احمدیت اس قسم کی تواریخ کا پیش خیمہ ثابت ہو۔یہ کام اگر چہ بہت نازک اور اہم ہے کیونکہ پرانے صحابہ کرام میں سے اب صرف خال خال باقی رہ گئے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر ہے کہ ۱۹۳۹ء میں جب کہ لاہور کے اکثر صحابہ زندہ موجود تھے۔مجھے نظارت تالیف و تصنیف قادیان کی طرف سے اس غرض کے لئے لا ہور اور بعض دوسرے مقامات پر بھجوایا گیا کہ میں صحابہ کرام کے مختصر حالات اور روایات قلمبند کروں۔سو مجھے صحابہ کرام کی خدمت میں حاضر ہونے کا موقعہ ملا۔اور عموماً انہی کے الفاظ میں ان کے حالات اور روایات قلمبند کرنے کا شرف حاصل ہوا۔فالحمد للہ علی ذالک۔اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ کسی اور کی نسبت میرے لئے یہ کام نسبتاً آسان تھا۔اس کے بعد ایسے حالات پیدا ہوئے کہ انداز ۱۹۳۵ء میں مجھے لاہور میں بحیثیت مبلغ بھجوا کر دار التبلیغ کا قیام عمل میں لایا گیا۔میں ابھی لا ہور ہی میں تھا کہ ہندوستان کا عظیم ملک دوحصوں میں تقسیم ہو گیا۔اس بٹوارے کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل و کرم سے مسلمانوں کو مملکت خدا داد پاکستان کی نعمت سے مالا مال کیا۔تقسیم کے کچھ عرصہ بعد محترم جناب مولانا عبدالغفور صاحب فاضل مبلغ سلسلہ عالیہ احمدیہ نے