لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 15
15 کے ساتھ اصلاح کر دی جائے گی۔اسی طرح جن بزرگوں کی اولاد کے اسماء گرامی نہیں لکھے جا سکے وہ بھی از راه نوازش مطلع فرمائیں تا دوسرا ایڈیشن شائع کرنے کی صورت میں موجودہ کمی پوری کی جاسکے۔یہ بھی ممکن ہے کہ کسی صحابی نے مثلاً اپنی بیعت کا سنہ خود خاکسار مؤلف سے ۱۹۰۴ ء بیان کیا۔مگر ان کی وفات پر ان کے پسماندگان نے انداز ۱۹۰۳ء یا ۱۹۰۵ء کر دیا اور بہشتی مقبرہ کے کتبہ پر بھی وہی لکھا گیا۔ایسی صورت میں صحیح سنہ یقیناً وہی ہو گا جو اس صحابی نے اپنی زندگی میں خود بتایا۔بالآخر خاکساران احباب کا شکریہ ادا کرنا بھی ضروری سمجھتا ہے جنہوں نے گذشتہ سال ۲۵ رمضان المبارک ۱۳۸۴ھ بمطابق -۲۹۔جنوری ۱۹۵۶ء کو جمعۃ الوداع کے روز کتاب کی تالیف شروع کرنے پر خاکسار کو شامل کر کے دعا فرمائی اور وہ ہیں محترم جناب ڈاکٹر عبید اللہ خاں صاحب بٹالوی محترم سید نعیم احمد شاہ صاحب اور محترم میاں بشیر الدین احمد خان صاحب اور یہ تینوں معتکف تھے۔فجزاهم الله احسن الجزاء اوّل الذکر بزرگ یعنی محترم ڈاکٹر عبید اللہ خاں صاحب تو خاص شکریہ کے مستحق ہیں کہ انہوں نے اس کتاب کا مسودہ از اوّل تا آخر بڑے شوق توجہ اور دلچسپی کے ساتھ ملا حظہ فرمایا۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ خاکسار کی اس ناچیز تالیف کوقبول فرمائے اور اسے عاجز کی مغفرت کا ایک ذریعہ بنادے۔آمین۔اللھم آمین اس کتاب کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس کا بیشتر حصہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے مبارک زمانہ میں لکھا گیا اور آخر کا کچھ حصہ امیر المومنین حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب خلیفۃ المسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے زمانہ میں تالیف ہوا۔چنانچہ اس کا نام بھی حضور ایدہ اللہ تعالی ہی کا تجویز فرمودہ ہے۔فجزاه الله احسن الجزاء وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين - خاکسار عبدالقادر ( سابق سوداگرمل ) مسجد احمد یہ بیرون دہلی دروازہ لاہور ۲۰ / فروری ۱۹۶۶ء