لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 128 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 128

128 بیروز و یکم ایک بہت بڑی کمپنی مشہور دوا فروش کی تھی۔اس سے یہ دوائیں منگوائیں اور نہ پونڈ پونڈ بلکہ ہیں ہمیں پونڈ تک منگوائیں۔جس پر میرا ایک ہزار روپیہ خرچ ہو گیا۔اس وقت میں نے یہ دوائی اصلی اجزاء کے ساتھ بنانی شروع کی اور خدا کے فضل سے میں اس کے بنانے میں کامیاب ہو گیا۔اور اصل دوا مہیا ہو گئی یعنی اصل نسخہ مرہم عیسی کا تیار ہو گیا اور میں نے اس دوا کا اشتہار اس رنگ میں دینا شروع کیا کہ ایک تو اس سے تبلیغ کا پہلو نکلے اور دوسرا عیسائیت پر حجت تمام ہوا ور خدا کا کلام قرآن و ما قتلوه وما صلبوه صحیح اور بالکل خدا کا ہی کلام ثابت ہو۔اور عیسائی دنیا معلوم کر لے کہ قرآن نے جو کچھ بیان کیا ہے وہ بالکل حق ہے۔چنانچہ میں نے اشتہار کی یہ صورت بنائی کہ اشتہار کے سرے پر تو مرہم عیسی، مرہم حوار بین مرہم رسل موٹے حروف کے ساتھ چھپوایا اور اشتہار کے درمیان حضرت مسیح عیسی بن مریم کی وہ تصویر جو گرجوں میں لکی ہوتی ہے اور حواریوں کی وہ تصویر جو حضرت مسیح کے ساتھ دکھائی جاتی ہے۔اور حضرت مسیح کے ہاتھ میں وہی صلیب پر میخیں ٹھوکنے کے نشان جو وہ حواریوں کو دکھا رہے ہیں اور ان حواریوں میں سے ایک حواری کا طبیب ہونا۔جیسا کہ لوقا کے متعلق انجیلوں میں لکھا ہے۔پیارا طبیب وہ بارہ حواری اور بارہ دوائیں اور پرانے وقت کا وہی کھرل اور و ہ اور دوائیں بنانے کی ترکیب حضرت مسیح کے صلیبی زخموں کے لئے جو یہ مرہم بنائی گئی تھی۔اس کا رنگ دے کر اس تصویر کے نیچے اس مرہم کے فوائد درج کئے گئے تھے۔اور میں اس وقت بھائی دروازہ کے اس مکان میں رہتا تھا جو والد صاحب بزرگوار نے مجھے علیحدہ بنا کر دیا تھا۔اس تصویر والے اشتہار کے ساتھ ایک بہت بڑا پوسٹر بہت بڑی جلی قلم سے نہایت خوشخط اس زمانے میں میاں نتھو بہت بڑے خوشنویس تھے۔ان کے ہاتھ سے لکھوا کر اور گلاب سنگھ کے پریس میں چھپوا کر اس مرہم کی وجہ تسمیہ یہ کھی تھی کہ مرہم عیسی اس کو اس لئے کہتے ہیں کہ جب حضرت مسیح صلیب پر سے زندہ بچ گئے۔حواریوں نے حضرت مسیح کے صلیبی زخموں پر لگانے کے لئے الہام الہی کے ماتحت اس مرہم کو بنایا تھا۔حضرت مسیح تو بیماروں کو اچھا کرتے تھے مگر اس مرہم نے حضرت مسیح کو چنگا کر دیا۔اس اشتہار کا نکلنا تھا کہ تمام عیسائی دنیا کے اندر ایک تہلکہ مچ گیا۔اس زمانہ میں لاہور کے جو ڈپٹی کمشنر تھے وہ