لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 129
129 سلطان پوره کیمپ میں گئے ہوئے۔وہاں سے انہوں نے پولیس کے ایک بڑے آفیسر انگریز کو میرے پتے پر میرے مکان پر یہ کہلا کر بھیجا کہ اس اشتہار کو جو تم نے شائع کیا ہے۔فوراً تمام درو دیوار سے اتار دو۔ورنہ تمہیں گرفتار کیا جائے گا۔اس زمانہ میں خواجہ کمال الدین صاحب وکیل اور کالی پرسن ایک بنگالی وکیل ان دونوں کو میں نے اس مقدمہ کی پیروی کے لئے مقرر کر لیا۔والد صاحب بزرگوار چونکہ نہایت ہی رقیق القلب تھے۔انہوں نے سمجھا کہ شاید میرے بیٹے کو کہیں قید ہی نہ کر لیا جائے اور کوئی سزا ہی نہ دی جائے رات دن روتے رہتے تھے اور مجھ سے کہتے کہ تم نے ایسا اشتہار کیوں نکالا۔مگر میرے دل کے اندر اس قدر خوشی اور اس قدر مسرت اور اس قدر جوش تھا کہ میں والد صاحب بزرگوار سے عرض کرتا تھا کہ آپ گھبرائیں نہیں اللہ تعالیٰ بہت بڑا فضل کرنے والا ہے ادھر حضرت امام سیدنا مسیح موعود اس اشتہار کو دیکھ کر بڑے خوش تھے اور ہر تاریخ پر جو اس مقدمہ کی ہوا کرتی تھی۔میں حضرت صاحب کے پاس جایا کرتا تھا اور وہ بھی اس قدر خوش تھے کہ میں ان کی خوشی کو بیان نہیں کر سکتا۔صبح کی سیر کے وقت جب حضرت مسیح موعود دوستوں کے ہمراہ جایا کرتے تھے تو ڈاکٹر نورمحمد نے جو کہ کوچہ چڑیماراں لا ہور لوہاری دروازہ میں رہا کرتے تھے، آگے بڑھ کر حضرت سے عرض کیا کہ حضور ! اگر فر ما ئیں تو میں بھی اس کا اشتہار دوں اور محمد حسین کے ساتھ میں بھی ان کے اس مقدمہ میں شریک ہو جاؤں تو حضرت نے بڑی نفرت سے فرمایا کہ آپ ہرگز یہ اشتہار نہیں نکال سکتے جس کا حصہ تھا خدا تعالیٰ نے اسی سے یہ کام کرایا ہے۔اس اشتہار کے واقعات بہت ہی عجیب ہیں۔سیالکوٹ اور لاہور کی اخباروں میں اس مقدمے کا اتنا چرچا ہوا کہ حد ہی ہو گئی۔اخباروں نے اس بات پر زور دیا۔کہ امہات المومنین، جو عیسائیوں نے شائع کی ہے جس میں حضور نبی کریم ہے کے ازواج مطہرات اور حضور کی خانگی زندگی پر نہایت ناپاک اور دور از حقیقت جو حملے کئے گئے ہیں۔ان کے مقابل پر یہ اشتہار عیسائیوں کے لئے ایک سبق ہے۔ان کو آخر اس اشتہار سے جو واقعات کے مطابق اور صحیح تاریخ کے ساتھ لکھا گیا ہے اور حق بات بیان کی گئی ہے اس قدر غیظ و غضب کیوں ہوا کہ تمام عیسائی پبلک ہی بغاوت کے لئے تیار ہوگئی۔