لاہور ۔ تاریخ احمدیت

by Other Authors

Page 115 of 666

لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 115

115 ۵۔فجر کی نماز کے بعد آپ تھوڑی دیر بیٹھ کر لوگوں کے رویا سنا کرتے تھے اور اپنے الہامات یا ر دیا بیان کیا کرتے تھے اور پھر اندر تشریف لے جایا کرتے تھے اور جب اچھا سورج نکل آتا تھا تو کوئی آٹھ بجے کے قریب سیر کے لئے تشریف لے جایا کرتے تھے۔حتی کہ ماہ رمضان میں بھی حضور سیر کو جایا کرتے تھے۔اکثر موجودہ اسٹیشن کی طرف جایا کرتے تھے۔پہلے چوک میں کھڑے ہو کر مہمانوں کی انتظار فرمایا کرتے تھے۔پھر حضرت مولوی صاحب ( خلیفہ اوّل) کے دروازے پر کھڑے ہو کر مولوی صاحب کو اطلاع بھجوایا کرتے تھے۔مولوی صاحب فوراً حاضر ہو جاتے تھے۔سیر قریباً تین میل ہوا کرتی تھی۔کبھی کبھی حضور نہر کی طرف بھی جاتے تھے۔جب ہم تھک جایا کرتے تھے تو چار پانچ آدمی ایک خیر خواب میں ہی میں نے اس کی مرمت کی۔جب مرمت کر چکا تو خواب میں زور سے آندھی آئی جس سے میں بیدار ہو گیا۔۱۹۲۰ء کے شروع میں میں بیعت کر کے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہو گیا۔۱۹۲۲ء کے شروع میں کسی تقریب پر لاہور میں حضرت میاں عبدالعزیز صاحب مغل کے مکان پر آنے کا اتفاق ہوا۔مغل صاحب او پر سے ایک گھڑی لائے اور دائیں طرف سے مجھے دکھا کر فر مایا۔کیا آپ اس گھڑی کی مرمت کر سکتے ہیں؟ نیز فرمایا کہ آپ کو علم ہے کہ کس کی گھڑی ہے؟ میں نے کہا۔مجھے تو علم نہیں۔فرمایا۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی گھڑی ہے جو حضور کے وصال کے دوسرے سال حضرت ام المومنین نے مجھے لاہور میں ہمارے مکان پر عطا فرمائی تھی۔میں نے جب اس گھڑی کو دیکھا تو میری حیرت کی انتہاء نہ رہی کیونکہ یہ وہی گھڑی تھی جس کی میں ۱۹۱۷ ء میں خواب میں مرمت کر چکا تھا اور جس کے متعلق مجھے کہا گیا تھا کہ یہ آنحضرت ﷺ کی گھڑی ہے۔میں وہ گھڑی امرتسر اپنے گھر لے گیا۔بچوں کو دکھائی اور بتایا کہ خواب میں آنحضرت ﷺ کی جس گھڑی کا واقعہ میں آپ لوگوں کو کئی مرتبہ سنا چکا ہوں وہ یہ گھڑی ہے اور یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ہے۔چوہدری صاحب نے یہ واقعہ سنا کر فرمایا کہ میں نے حضرت مغل صاحب سے عرض کی تھی کہ میری زندگی تک آپ کو جب بھی اس گھڑی کی مرمت کی ضرورت پیش آئے میری خدمت حاضر ہیں۔اللهم صلی علی محمد و آل محمد محترم چوہدری صاحب نے فرمایا۔یہ امر خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ جس طرح ۱۹۱۷ء کی خواب میں گھڑی کی مرمت کے بعد زور سے آندھی آ گئی تھی۔۱۹۲۲ء میں گھڑی کی مرمت کے بعد رات کو زلزلہ آیا جس سے شور پڑ گیا۔خاکسار راقم الحروف عرض کرتا ہے کہ یہ گھڑی میں نے تین مرتبہ دیکھی ہے۔دومرتبہ تو حضرت مغل صاحب نے خود مسجد احمد یہ لاہور میں لا کر مجھے دکھائی تھی اور تیسری مرتبہ جو ۱۹۶۲ء میں جب محترم مولوی قمر الدین صاحب فاضل انسپکر اصلاح وارشا داور خاکسار دورہ پر کراچی گئے تھے تو اس موقعہ پر دیکھی تھی۔اور اس کی تقریب یوں پیش آئی کہ مغل صاحب