لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 114
114 ۴۔میاں عبد العزیز صاحب المعروف مغل صاحب نے بتایا کہ اس وقت جو گھڑی میرے پاس ہے۔یہ حضرت اقدس کی جیب کی گھڑی ہے۔حضرت ام المومنین علیہا السلام نے حضور کے وصال کے بعد مجھے عطا فرمائی تھی۔یہاں لاہور میں اس گھڑی کو چلتے ہوئے تمہیں سال ہو گئے ہیں۔آٹھ روز کے بعد اسے ایک دفعہ چابی دینا پڑتی ہے۔پہلے اس کا کیس چاندی کا تھا۔میں نے پالش کے لئے ایک شخص فیروز الدین کو دیا مگر اس سے کہیں گم ہو گیا۔اب اور کیس ہے۔اس گھڑی کی مرمت میں نے اب تک دو دفعہ کرائی ہے۔ایک دفعہ چوہدری عبدالرحیم صاحب ہیڈ ڈرافٹس میں سے اور دوسری مرتبہ ایک گھڑی ساز سے جس کا نام عبدالرحمن تھا اور اس نے دوسرا کیس لگایا تھا۔اس نے بتایا تھا کہ یہ گھڑی جب نئی خریدی گئی ہو گی کم از کم تین سو روپیہ میں ملی ہوگی۔چوہدری عبدالرحیم صاحب ابھی غیر احمدی تھے کہ انہوں نے خواب میں دیکھا کہ حضرت نبی کریم ﷺ کی گھڑی مرمت کے لئے میرے پاس آئی ہے۔چنانچہ اتفاق سے میں نے ان کو یہ گھڑی مرمت کیلئے دی۔جب انہوں نے اسے کھولا تو کہنے لگے کہ یہ گھڑی آپ نے کہاں سے لی ہے؟ اسے تو میں خواب میں دیکھا چکا ہوں اور مجھے بتایا گیا تھا کہ یہ آنحضرت ﷺ کی گھڑی ہے۔اس گھڑی کا نقشہ بالکل وہی ہے جو اس کا تھا۔اس میں دو سپرنگ تھے اور اس میں بھی۔میں نے جب انہیں بتایا کہ یہ حضرت مرزا صاحب کی گھڑی ہے تو وہ حیران رہ گئے کیونکہ وہ خواب میں دیکھ چکے تھے کہ آنحضرت ﷺ کی یہ گھڑی کسی نے آپ سے مرمت کروائی تھی۔آج مورخہ ۱۳۔مارچ ۱۹۲۴ء کو بعد نماز مغرب خاکسار مؤلف نے جناب چوہدری عبدالرحیم صاحب صد ر حلقہ اسلامیہ پارک سے اس سلسلہ میں ان کے مکان واقعہ اسلامیہ پارک میں ملاقات کی۔انہوں نے فرمایا: " جس خواب کا حضرت مغل صاحب نے ذکر کیا ہے وہ میں نے ۱۹۱۷ ء میں اپنے گھر واقعہ امرتسر میں دیکھی تھی۔ان دنوں میں احمدیت کا اشد مخالف تھا۔میں نے دیکھا کہ ایک شخص نے دائیں طرف سے مجھے ایک گھڑی دی ہے اور اس کا منشاء یہ معلوم ہوتا ہے کہ میں اس کی مرمت کروں۔وہ کہتا ہے۔یہ آنحضرت ﷺ کی گھڑی ہے کیا اس کی مرمت ہو سکتی ہے؟ میں نے کہا جب آنحضرت ﷺ کی گھڑی ہے تو اس کی مرمت کیوں نہیں ہو سکتی۔چنانچہ جب میں نے اسے کھول کر دیکھا تو وہ ایک نہایت ہی قیمتی گھڑی تھی۔اس کا ہر پرزہ نہایت ہی شاندار تھا۔مین سپرنگ (Main Spring) بھی دو تھے۔آج تک میں نے دو مین سپرنگوں والی جیسی گھڑی نہیں دیکھی۔اس میں جو ہیرا لگا ہوا ہے وہ بھی بہت اعلیٰ ہے۔