لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 116
116 دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر حضور کے آگے چل پڑے تھے اور چند قدم آگے چل کر واپس قادیان کا رخ کر لیتے تھے۔حضور بھی ہمارے پیچھے ہو لیتے تھے۔چونکہ حضور مسائل بیان فرما رہے ہوتے تھے اس لئے ہم عرض نہیں کرتے تھے کہ حضور واپس چلیں۔سیر میں بعض اوقات اس قدر گر داڑتی تھی کہ سر اور منہ مٹی سے بھر جاتے تھے۔حضور اکثر پگڑی کے شملہ کو بائیں طرف سے منہ کے آگے رکھ لیا کرتے تھے۔حضور کے دائیں ہاتھ میں چھڑی ہوتی تھی۔بعض اوقات لوگوں کے پاؤں کی ٹھوکر لگ کر چھٹڑی گر جاتی تھی مگر حضور پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتے تھے۔بلکہ جب کوئی چھڑی پکڑا تا تو پکڑ لیا کرتے تھے۔اگر کسی وقت سیر میں حضور پیشاب کیلئے الگ ہوتے تھے تو بہت دور جا کر پیشاب کیا کرتے تھے اور ڈھیلہ بیٹھ کر ہی لیا کرتے تھے۔کھڑے ہو کر ہم نے کبھی ایسا کرتے نہیں دیکھا۔۔حضور جب اسلام اور دیگر مذاہب کے موضوع پر لیکچر دینے کے لئے لاہور میں تشریف لائے تو میاں معراج الدین صاحب صاحب عمر کے مکان پر ٹھہرے تھے۔چند دن بعد حضور نے حضرت خلیفہ اول اور مولوی عبدالکریم صاحب کو بھی بلا لیا تھا اور مولوی صاحبان ہمارے مکان میں ٹھہرے تھے۔گرمی کا موسم تھا۔ہم نے پانی کے لئے کورے مٹکے لاکر رکھے ہوئے تھے۔گوجرانوالہ وزیر آباد سیالکوٹ اور امرتسر وغیرہ سے جو مہمان آتے تھے اہل و عیال سمیت آتے تھے۔مجھے یاد ہے۔چھتیں سو روٹی ایک وقت میں پکا کرتی تھی۔ہمارے گھروں کے سامنے دکانوں کا ایک بازار لگ گیا تھا۔مولوی لوگ مجمعے لگا کر گالیاں دیتے اور اعتراضات کیا کرتے تھے۔ایک مولوی صاحب شیشم ( جسے پنجابی میں ٹاہلی کہتے ہیں۔ناقل ) کے درخت پر چڑھ کر بدزبانی کیا کرتا تھا اور اس کا نام مولوی ٹاہلی پڑ گیا ایک دن حضرت ام المومنین نے میری والدہ کے سامنے حضور سے عرض کیا کہ چونکہ عورتیں مٹکوں کی اہلیہ بچوں سمیت لاہور سے سکونت ترک کر کے کراچی چلی گئی ہیں۔میں نے وہاں پہنچنے پر ان کے ایک بچے عزیزم عبدالرزاق صاحب کو کہا کہ اپنی امی کو میرا سلام کہنا اور ان سے وہ گھڑی لے آنا جو حضرت ام المومنین نے مغل صاحب کو دی تھی۔چنانچہ وہ گھڑی لے آیا۔اتفاقاً اس روز احمد یہ ہال میں کوئی جلسہ تھا اور حاضری تقریباً تین چارسو کے لگ بھگ تھی۔میں نے باری باری سب کو وہ گھڑی دکھلائی تھی اور اس کی مرمت کا واقعہ بھی بیان کیا تھا۔فالحمد للہ علی ذالک