لاہور ۔ تاریخ احمدیت — Page 113
113۔نیلا گنبد میں میری کنفیکشنری (Confectionery) مٹھائی کی دکان تھی۔اور یہ وہ دکان تھی جہاں اب موسیٰ اینڈ سنز کی دکان ہے۔اس میں میں بیٹھا ہوا تھا۔غالباً ۱۸۹۲ ء یا ۱۸۹۳ء کی بات ہے۔ایک شخص محمد رمضان جو نیلا گنبد والی مسجد میں طالب علم تھا اور بڑا سخت مخالف تھا۔ایک سکھ کو ساتھ لا کر میرے پاس چھوڑ گیا۔اس سکھ کا نام پچھتر سنگھ تھا۔میں نے اسے کھانا کھانے کے لئے دو آنے دیے۔کھانا کھانے کے بعد اس نے قادیان کا رستہ دریافت کیا اور قادیان چلا گیا۔آٹھ دن کے بعد پھر میرے پاس دکان پر آیا اور السلام علیکم کہا جس سے میں سمجھ گیا کہ یہ مسلمان ہو چکا ہے۔اس نے بتایا کہ میں مسلمان ہو چکا ہوں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کر چکا ہوں اور حضور نے میرا نام عبدالعزیز رکھا ہے۔پھر وہ شخص بڑا مخلص رہا۔اب اس کی وفات کو دس بارہ سال ہو چکے ہیں۔میں نے قادیان میں اسے بار ہا دیکھا ہے۔خیر اس نے بتایا کہ میں ایک عورت پر عاشق تھا اور اس کا خیال میرے دل سے محو نہیں ہوتا۔میں بہت گرؤں کے پاس گیا میرے دو ہی سوال تھے کہ یا تو وہ عورت مجھے مل جائے اور یا اس کا خیال میرے دل سے محو ہو جائے۔مگر کوئی گرو میری تسلی نہ کر سکا۔اس پر میں نے مسلمان گدی نشینوں کی طرف رجوع کیا حتی کہ گولڑے میں مجھ سے ضرب البحر کا چلہ بھی کٹوایا گیا مگر کوئی فائدہ نہ ہوا۔پھر کسی نے مجھے از راہ تمسخر کہا کہ ” مرزے کے پاس قادیان جاؤ۔اس کا بڑا دعوی ہے“۔اس لئے میں نے لاہور میں آ کر پوچھا کہ قادیان کا رستہ بتاؤ اور محمد رمضان آپ کے پاس چھوڑ گیا۔یہ محمد رمضان خود بھی بعد میں احمدی ہو گیا تھا) پھر میں قادیان چلا گیا۔نماز عصر کے بعد حضرت کی ملاقات کیلئے بے دھڑک او پر چلا گیا اور عرض کیا کہ حضور ! اس طرح میں ایک عورت پر عاشق ہوں۔میرا برا حال ہے۔یا مجھے وہ عورت مل جائے اور یا اس کا خیال میرے دل سے محو ہو جائے۔اس پر حضور نے ایک نظر بھر کر میری طرف دیکھا ( حضور نظر اٹھا کر بہت کم دیکھا کرتے تھے ) اور فرمایا کہ رات یہاں رہو اور کل چلے جانا۔چنانچہ میں رات رہا۔مگر عجیب بات ہے کہ اس نظر کے بعد وہ عورت مجھے بالکل بھول گئی۔رات کو میں نے خواب میں سید عبد القادر جیلانی کو دیکھا اور خواب ہی میں مجھے ان کا نام بتلایا گیا اور سمجھایا گیا کہ یہ ایک بہت بڑے بزرگ گزرے ہیں۔صبح میں نے حضور کی خدمت میں عرض کی کہ حضور! میں مسلمان ہوتا ہوں۔فرمایا کچھ ٹھہر و۔پھر دوسرے یا تیسرے روز حضور نے مجھے مسلمان کر کے میرا نام عبد العزیز رکھا۔اب میں آپ کو ملنے آیا ہوں۔چنانچہ پھر وہ قادیان چلا گیا۔