تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 68 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 68

تاریخ افکا را سلامی ۶۸ امام ابو حنیفہ خبر واحد کو قبول کرنے کے سلسلے میں ان شرائط کا بھی اضافہ کرتے ہیں کہ وہ عمومات قرآن اور اس کے ظواہر کے خلاف نہ ہو۔راوی خود اس حدیث کے خلاف عمل نہ کرے۔نیز اس حدیث کا تعلق عموم بلوکی کے سے نہ ہو یعنی وہ ایسی بات نہ ہو جس کا جاننا بڑی حد تک عوام کے لئے ضروری تھا۔جیسے ایک صحابیہ بسرہ کی طرف منسوب یہ حدیث ہے کہ مس ذکر سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔یہ حدیث اس لئے ناقابل قبول ہے اگر حضور نے ایسا فرمایا ہوتا کہ شرم گاہ کے چھونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے تو یہ بات عام طور پر لوگوں کے علم میں ہوتی حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ہے -۹ ائمہ فقہ حجیت حدیث کے سلسلہ میں بعض اوقات گردو پیش اور ماحول سے بھی متاثر ہوتے تھے۔مثلاً امام مالک کو اس قسم کی روایات قبول کرنے میں تامل رہتا جن کی تائید اہل مدینہ کے عمل مستمر کے ذریعہ نہ ہوسکتی ہو مثلاً ایک دفعہ آپ کے سامنے یہ روایت بیان ہوئی کہ جب حضرت ابو بکر کو جنگ یمامہ میں فتح کی خوشخبری ملی تو آپ نے سجدہ شکر ادا کیا۔امام مالک نے کہا یہ روایت درست نہیں ہوسکتی کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑی بڑی فتوحات نصیب ہوئیں آپ کے زمانہ میں صحابہ نے بھی کامیابیاں حاصل کیں لیکن کبھی کسی نے سجدہ شکر ادا نہیں کیا جب ان سابقون کا یہ طریق نہ تھا اور مدینہ میں اس پر عمل نہیں تو ہم کیوں ایک بدعت کو اختیار کریں۔اسی نظریہ کی بنا پر آپ نے مندرجہ ذیل صورتوں کی بھی مخالفت کی۔سجدات تلاوت اس سلسلہ میں مروی روایت کو آپ نے اس بنا پر رد کر دیا کہ اہل مدینہ کے ہاں یہ رواج سلے نہیں ہے۔ب۔یہ روایت کہ رمضان کے معا بعد شوال کے چھ روزے رکھنا باعث ثواب ہے۔امام مالک کے نزدیک یہ روایت اس لئے درست نہیں کہ یہ سد ذرائع کے خلاف ہے لوگ اس طرح ان چھ روزوں کو بھی رمضان جیسی اہمیت دینے لگیں گے۔ج کوئی شخص کسی دوسرے کی طرف سے (خواہ وہ فوت شدہ یا معذور ہو ) نہ حج کر سکتا ہے اور الذي يكثر وقوعه وتعم به البلوى (الامام الشافعي صفحه ۱۳۷) مالک بن انس صفحه ۱۹۳٬۱۸۵ - ابو حنيفه صفحه ۱۵۸ - الامام الشافعي صفحه ۲۳۷، ۲۳۸ احب الاحاديث الى ما اجتمع عليه الناس وهذا عالم يجتمع عليه الناس (مالک بن انس صفحه ۱۷۹)