تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 67 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 67

تاریخ افکا را سلامی 12 عدالت ہے گویا تیسری شرط یہ ہے کہ راوی عادل ہوں۔۴۔سند کے راویوں کا حافظہ اچھا ہو اور وہ بات کو یا درکھنے کی اہلیت رکھتے ہوں اس وصف کا اصطلاحی نام "ضبط " ہے کو یا چوتھی شرط یہ ہے کہ راوی ضابط ہو۔سند کے راویوں میں سے کوئی راوی مسکلس نہ ہو اور نہ اس نے اپنے سے زیادہ ثقہ راوی کی مخالفت کی ہو۔۔امام شافعی حدیث کی صحت کے لئے یہ شرط بھی لگاتے تے ہیں کہ راوی انہی الفاظ میں حد بیث بیان کرے جو اس نے منے ہوں۔مفہوم بیان نہ کرے۔کے۔امام مالک کے نزدیک خبر واحد کے مقبول ہونے کی ایک شرط یہ بھی ہے کہ وہ اہل مدینہ کے عمل کے خلاف نہ ہو۔امام مالک عمل اہل مدینہ کو بڑی اہمیت دیتے ہیں۔وہ اپنی مشہور کتاب موطا میں اس اہمیت کی طرف مختلف الفاظ میں بارہا را شارہ کرتے ہیں۔مثلاً کبھی کہتے ہیں هذا الأمرُ الَّذِي أَدْرَكْتُ عَلَيْهِ النَّاسَ وَأَهْلَ الْعِلْمِ بِبَلَدِنَا۔کبھی یوں فرماتے ہیں۔السُّنَّةَ الَّتِي لا اخْتِلَافَ عِنْدَنَا يَا أَلا مُرُ عِنْدَنَا - لے مُدلس اسے کہتے ہیں جو اس انداز میں بات کرے جیسے اس نے یہ حدیث مروی عنہ سے خود سنی ہے حالانکہ امر واقعہ یہ ہو کہ اس نے خود یہ حدیث نہیں سنی تھی البتہ مروی عنہ سے ملا تھا یا اس سے ملنے کا امکان تھا۔تدلیس میں ایک گو نہ دھو کہ کا شائبہ ہوتا ہے۔يقول الشافعي لا تقوم الحجة بخير الخاصة حتى يجمع امورا منها ان يكون من حدث به ثقة في دينه معروفاً بالصدق في حديثه عاقلا بما يحدث به و ان يكون ممن يؤدى الحديث بحروفه كما سمع برينا ان يكون مدلسا۔۔۔۔ما يحدث الثقات خلافه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى ينتهى بالحديث موصولا الى النبي الامام الشافعی صفحه ۲۲۶ تا ۲۳۸) کے اس شرط کی پابندی شائد ہی کسی نے کی ہو کما لا یخفی تفصیل کے لئے دیکھیں۔ابو حنیفه صفحه ۱۵۶ء مالک بن انس صفحه ۱۹۱ ✓ ان المدينة سلطانها الديني والتاريخي مسلّم فيها اقام النبي صلى الله عليه وسلم و هنالك عاشت الكثرة الغالية من الصحابة وامهات المؤمنين۔۔۔۔قال مالك ان الناس تبع لاهل المدينة و اجماعهم مقدم على خير الاحاد۔أما جمهور المحدثين فلايرون للراوى المدنى فضلا من حيث هو مدني وانما الفضل بالعدالة والضبط ابوحنيفه صفحه ۱۳۹، ۱۳۰ - مالک بن انس صفحه ۱۹۱،۱۷۹،۱۷۴)