تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 56 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 56

تاریخ افکا را سلامی ۵۶ ایک دفعہ اموی خلیفہ ہشام بن عبد الملک نے سلیمان بن بیسار سے پوچھا کہ آیت کریمہ والذي تولى كبرَهُ مِنْهُمْ لَهُ عَذَابٌ عَظِيم لے کس کے بارہ میں نازل ہوئی؟ وَالَّذِي سلیمان نے جواب دیا اس آیت میں عبد اللہ بن اُبی کی طرف اشارہ ہے۔ہشام نے غصہ ہو کر کہا تم جھوٹ بولتے ہو اس میں تو علی کی طرف اشارہ ہے۔سلیمان نے اس پر کہا امیر المومنین زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ایک دفعہ مشہور معتزلی ادیب جاحظ کو پیشکش کی گئی کہ اگر وہ مقتل علی کے بارہ میں احادیث وضع کریں تو ان کو دس ہزار دینار دیے جائیں گے۔کے وضع احادیث کا ایک سبب یہ تھا کہ بعض تصوف پسند بدعتی گروہ ترغیب اور ثواب سمجھ کر احادیث گھڑتے تھے۔گزشتہ حکماء اور داناؤں کی نصائح اور حکمت کی باتوں کو بطور حدیث بیان کرتے تھے اور اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔کہتے ہیں کہ ابو عصمہ نوح بن مریم سے پوچھا گیا کہ اس نے قرآن کریم کی سورتوں کے فضائل سے متعلق ایسی روایتیں بیان کی ہیں جو من گھڑت لگتی ہیں، اس نے ایسا کیوں کیا؟ نوح نے جواب دیا لوگ قرآن کریم کو چھوڑ کر دوسروں کی کتابیں پڑھنے کے شوقین ہو گئے ہیں اس لیے میں نے چاہا کہ ان کو اس طرف سے ہٹا کر قرآن کریم کی طرف متوجہ کروں سے ایک واعظ کرامات الصادقین کے بارہ میں حدیثیں گھڑ گھڑ کر لوگوں کو سنایا کرتا تھا۔اس سے پوچھا گیا کہ وہ ایسا کیوں کرتا ہے؟ کیا اس نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ فرمان نہیں سنا مَن كَذب عَلَى مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ ؟ تو اس نے جواب دیا نَحْنُ نَكْذِبُ لِلنَّبِيِّ لَا عَلَيْهِ که ہم تو آپ کے کمالات اور فضائل بیان کرنے کے لیے جھوٹ بولتے ہیں۔آپ کے خلاف تھوڑا ہی کہتے ہیں۔ھے ایک اور واعظ کے بارہ میں روایت ہے کہ وہ جو بہ پسند عوام کے ساتھ عجیب عجیب حدیثیں روایت کیا کرتا تھا۔ایک دفعہ اس نے عَلى أَن يُبْعَثَ رَبُّكَ مَقَامًا محمودال کی تغییر النور : ۱۲ الامام الشافعي : صفر ۲۱۲ ابو حنيفه صفح١٣٦ رأيت الناس تحولوا عن القرآن واشتغلوا يفقه أبى حنيفة و مغازى ابن اسحاق فوضعتها حِسَبَةً لوجه الله (ابو حنيفه صفحه ۱۳۶) ه الامام الشافعی صفحه ۲۱۳ بنی اسرائیل : ۸۰