تاریخ افکار اسلامی — Page 57
تاریخ افکار را سلامی ۵۷ کرتے ہوئے یہ حدیث بیان کی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے پاس عرش پر بیٹھیں گے۔یہی مقام محمود ہے۔امام ابن جریر طبری نے اس واعظ کی یہ بات سنی تو فرمایا کیسی غلط تغیر ہے کسی حدیث میں ایسا نہیں آیا۔لوگ یہ بات سن کر امام ابن جریر طبری کے خلاف ہو گئے اور کہا یہ گستاخ رسول ہے اور پھر کر ان کے گھر پر پتھراؤ بھی کیا۔لے #+ نظام شریعت تہذیب و تمدن، اقتصاد اور معاشرت کے فروغ کے سلسلہ میں مسلم علماء کے سامنے جب یہ سوال آیا کہ شریعت اور قانون کی تدوین کیسے ہو تو اس تعلق میں بالعموم یہ نظر یہ تسلیم کرلیا گیا کہ انسانی زندگی کے ہر پہلو کے بارہ میں اسلامی ہدایات موجود ہیں۔تفصیلات کا جاننا ہر مسلم عالم کا فرض ہے مگر یہ تفصیلات کیسے معلوم ہوں اور کیسے طے ہوں۔یہاں سے فقہی اختلافات کا آغاز ہوا۔مثلاً اس تعلق میں بعض نے اس نظریہ کا اظہار کیا کہ قرآن کریم شریعت کا بنیادی ماخذ ہے۔اس میں جو کچھ تصریح ہے وہ ایک مسلمان کی زندگی کا لائحہ عمل ہے اور اگر قرآن کریم کی کوئی نص موجود نہیں تو پھر انفرادی معاملات میں ہر مسلمان خود اپنا مفتی ہے وہ اپنے لیے بہتر سمجھ سکتا ہے اور اجتماعی معاملات میں اہل حل و عقد با ہمی مشورہ اور کثرت رائے سے جو فیصلہ کریں وہ اس وقت تک ساری جمعیت کے لیے واجب الاتباع ہوگا جب تک کہ اسی قسم کا اجماع اس فیصلہ کو تبدیل نہ کر دے۔اس گروہ کا کہنا ہے کہ روایات سے بھی اس نظریہ کی تائید ہوتی ہے کیونکہ انفرادی اجتہاد کی خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تصدیق فرمائی ہے۔B ایک دفعہ حضرت عمر اور حضرت عمار بن یاسر سفر میں تھے دونوں جنسی ہو گئے۔حضرت عمر نے نماز نہ پڑھی اور عمار نے تیم کی نیت سے زمین پر لوٹ پوٹ کر تیم کیا اور نماز پڑھی۔حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے سامنے جب اس واقعہ کا ذکر ہوا تو آپ اس اجتہاد کی وجہ سے کسی پر ناراض نہ ہوئے۔صرف عمار سے یہ کہا کہ زمین پر لوٹنے کی ضرورت نہ تھی صرف منہ اور ہاتھوں پر ل الامام الشافعي مؤ۲۱۳ ما نزل نازلة بمسلم إلا ولها حكم من الشارع يعنى كُلُّ ما نزل بمسلم ففيه حكم لازم ولانَّ الله في كل واقعة حكما معينا، على المجتهد طلبه والعمل به الامام الشافعي صفحه ۲۳۲،۲۳، ۲۳۸)