تاریخ افکار اسلامی — Page 51
تاریخ افکا را سلامی ۵۱ وضع حدیث کا خطر ناک فتنہ اور اس کے اسباب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بعثت کے کچھ عرصہ بعد یہ خاص اہتمام فرمایا کہ قرآن کریم کی جو آیات نازل ہو تیں انہیں نہ صرف یاد کرا دیا جاتا بلکہ حفظ کے ساتھ ساتھ آپ انہیں اپنے ایسے اصحاب سے لکھوا لیتے جو لکھ پڑھ سکتے تھے۔حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ ایسی ہی لکھی ہوئی آیات جو ان کی بہن کے پاس تھیں پڑھ کر مسلمان ہوئے تھے۔لکھنے کا یہ اہتمام حضور کی زندگی کے آخری لمحات تک رہا لیکن چونکہ کاغذ کی قلت تھی بلکہ شروع زمانہ میں وہ نایاب تھا اس لیے بعض اوقات قرآن کریم کی آیات لکڑی کی تختیوں ٹھیکریوں اور اونٹ کے کندھوں کی چوڑی ہڈیوں پر بھی لکھوائی جاتی تھیں اور آخر میں یہ اہتمام کیا گیا تھا کہ ایسے لکھے ہوئے مسودات لکڑی کے ایک بڑے صندوق میں محفوظ رکھے جاتے۔جس نے اپنے لیے نازل شدہ حصہ قرآن لکھنا ہوتا یا اس کی نقل لینی ہوتی وہ حفظ کے علاوہ ان محررہ محفو ناشدہ مسودات کی مدد سے لکھتا یا لکھواتا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے چند ماہ بعد ہی حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے عہد خلافت میں صحابہ کے مشورہ سے حکومتی سطح پر بصورت کتاب ایک مستند مصحف " تیار کرایا جو حضرت زید بن ثابت کی سربراہی میں قرآن کریم کے حافظ صحابہ کی ایک کمیٹی نے تیار کیا۔کمیٹی نے اس نسخہ کی تیاری میں صرف اپنے حفظ پر بھروسہ نہیں کیا بلکہ اس ذخیرہ سے بھی پوری پوری مدد لی جو حضور نے مختلف اوقات میں لکھوا کر محفوظ کیا تھا ہے اس تیار شدہ نسخہ کے استناد کو تمام صحابہ، ساری امت بلکہ ساری دنیا نے تسلیم کیا اور اس کا نام ” مصحف امام " رکھا۔اس کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے دور خلافت میں حضرت زید ہی کی سر براہی میں ایک اور کمیٹی قائم کر کے اس مصحف امام کی پانچ نقلیں کروا ئیں جو مملکت کے مختلف مراکز میں بھجوا دی گئیں تا کہ لوگ اس کے مطابق پڑھیں پڑھائیں اور جو لکھنا چا ہیں لکھ مالک بن انس صفحه ۲۰ و ۳۰