تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 50 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 50

تاریخ افکا را سلامی ظلم و ستم کی تم کو خبر ملے تو بڑے حکیمانہ انداز میں موقع ومحل کو دیکھ کر اور اطاعت کے دائرہ میں رہ کر پوری جرات اور بے خوفی کے ساتھ اسے نصیحت کرو اور اس کی غلطی پر اسے متنبہ کرو۔خدا نے تجھے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے سلسلہ میں اس کی طاقت دی ہے اس لئے جو طاقت تم میں ہے اس کا تم استعمال کرو اور اسی کی حد کے اندر رہو ورنہ اگر تم حد سے بڑھے تو تمہاری ساری کوششیں رائیگاں جائیں گی لے غرض سیاسی فتنوں کے اس پریشان کن دور میں علماء حق اور فقہاء امت نے اس نظریہ پر اتفاق کیا کہ پوری جرات اور صبر و ثبات کے ساتھ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کیا جائے اور اس راہ میں جو مشکلات اور مصائب آئیں حوصلہ اور حکمت عملی کے ساتھ ان کو بر داشت کیا جائے۔لیکن سلطان جائہ کے سامنے کلمہ حق کہتے ہوئے اطاعت کے دائرہ کے اندر رہا جائے۔حکمت ، موعظت اور پیغمبرانہ طریق اصلاح کا انداز اختیار کیا جائے اور ملکی استحکام اور امن وامان کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اصلاحی کام کو آگے بڑھایا جائے کے فساد اور فتنہ بغاوت اور انارکی کی راہوں سے بچا جائے کیونکہ الْفِتْنَةُ اشَدُّ مِنَ الْقَبلِ ایک برحق ارشاد ہے اس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اگر حق تلفیوں کے تدارک کی کوشش کی گئی تو یہ کوشش ہزاروں لاکھوں کے خون کا باعث بن جائے گی۔سارا خون رائیگاں جائے گا اور حاصل کچھ نہ ہوگا بلکہ مزید حق تلفیوں کی بنیا دپڑے گی۔تہذیب و تمدن اور علم و ترقی کی راہیں مسدود ہو جائیں گی۔پس اصلاح احوال کا یہ طریق نہ تو عقلمندی کی بات ہے اور نہ پیغمبرانہ انداز اصلاح سے اس کا کوئی تعلق ہے۔قَالَ لَأَنْ يَدَ السُّلْطَانِ أَقوى مِنْ يَدِک (مالک بن انس - صفر ۳۴۷) صَلاحُ الْأَمْرِ مَأْمُولٌ مَعَ الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر والتفحية والشورى والنصيحة لله ولرسوله ولسائر المؤمنين