تاریخ افکار اسلامی — Page 52
تاریخ افکا را سلامی or سکیں۔ان نسخوں میں قریش کی زبان اور اس زمانہ میں مروجہ مقبول اسلوب کتابت کا خاص طور پر زبان اوراس خیال رکھا گیا تھا لے قرآن کریم کی حفاظت اور کتابت کا جس طرح حکومتی سطح پر اہتمام کیا گیا اس قسم کا کوئی انتظام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کی کتابت اور حفاظت کے بارہ میں نہ کیا جا سکا اور نہ ہی اس کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے بلکہ حضرت ابو بکر اور حضرت عمر تو کتابت احادیث سے اس وقت منع فرمایا کرتے تھے۔روایت میں آتا ہے کہ ایک دفعہ حضرت ابو بکر نے مدینہ کے اہل علم صحابہ کو جمع کیا اور کہا تم میں سے بعض اپنے اپنے سماع اور اپنی اپنی یادداشت کے مطابق بکثرت حدیثیں بیان کرتے ہو اور اس طرح اختلاف کا باعث بن رہے ہو۔تمہارے بعد لوگ تم سے سبق لے کر اور زیادہ شدت کے ساتھ اختلاف کریں گے اس لیے تم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کر کے حدیثیں نہ بیان کیا کرو اور لوگوں کو قرآن کریم کی طرف متوجہ کرو۔اس کے حلال کو حلال کرو۔اس کے سمجھو اور اس کے حرام کو حرام۔اس سے آگے نہ بڑھو۔کے اسی طرح یہ روایت بھی آتی ہے کہ ایک دفعہ حضرت عمر نے احادیث لکھوانے کا ارادہ کیا اور اس سلسلہ میں صحابہ سے مشورہ بھی کیا۔انہوں نے کہا بہت اچھا خیال ہے ضرور ایسا کیجئے۔حضرت عمر ایک ماہ تک دعا اور استخارہ کرتے رہے۔سوچ بچار کے بعد آپ نے صحابہ کو پھر بلایا اور کہا میں نے احادیث لکھنے کے بارہ میں آپ سب سے مشورہ کیا تھا خود میں نے بھی بہت سوچا ہے۔آپ جانتے ہیں کہ تم سے پہلے اہل کتاب یعنی یہود نے بھی کتاب اللہ کے ساتھ اپنے بزرگوں کی باتیں لکھیں پھر ان باتوں کی طرف زیادہ جھک گئے اور یہ امتیاز نہ رکھ سکے کہ کتاب اللہ کیا ہے اور بزرگوں کی احادیث کیا اور احادیث کے پڑھنے پڑھانے میں ہی لگ گئے اور کتاب اللہ کو بھلا دیا مالک بن انس صفحه ۳۵ لقد عاش النبي صلى الله عليه وسلم بعد البعثة ثلاثا وعشرين سنة فكان تدوين سننه (اقواله و اعماله واقراره أمر غير يسير الامام الشافعی صفحه (۲۱۰) قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا تكتبوا عنى شيئا و من كتب على غير القرآن فَلْيَمْحُهُ (صحیح مسلم كتاب الزهد والرقاق، باب التثبت في الحديث في حكم كتابة العلم) مسند احمد جلد ۳ صفح۳۹۰۲۱۰۱۲ - تذكرة الحفاظ للذهبي جلده صفحه ۲ -