تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 29 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 29

تاریخ افکار را سلامی ۲۹ ماتریدیہ کا ایک نظریہ یہ ہے کہ نیک کو ثواب دینے اور جنت میں داخل کرنے کا اس نے وعدہ کیا ہے اور اپنے اس وعدہ کو ضرور پورا کرے گا کیونکہ الكَرِيمُ إِذَا وَعَدَ وَفَا اور بد کو سزا دینے کی اس نے خبر دی ہے لیکن ساتھ ہی اس نے یہ بھی فرمایا ہے کہ چاہے تو اسے معاف کر دے وَيَغْفِرَ مَا دُونَ ذَلِكَ لِيمن نام اور بمطابق مقوله الكريم إِذَا وَعَدَ وَفا معاف کردینا بجائے خود ایک خوبی ہے۔اس لئے فرمایا لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنى -۔جبکہ معتزلہ کہتے ہیں کہ نیک کو جنت میں لے جانا اور بد کو دوزخ میں ڈالنا خدا کے لئے ضروری ہے وہ اس کے خلاف نہیں کر سکتا۔اِنَّ اللهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ - اشاعرہ کہتے کہ اس پر کچھ بھی پابندی نہیں اور نہ کچھ واجب ہے چاہے تو نیک کو جہنم میں ڈال دے اور چاہے تو بد کو معاف کر کے جنت میں لے جائے۔لَا يُنسل عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْتَلُونَ " ما تریلیه کہتے ہیں کہ صفات باری کو نہ قائم بالذات کہا جا سکتا ہے اور نہ مُنفک عَنِ النَّاتِ جبکہ معتزلہ کہتے ہیں کہ صفات باری عین ذات ہے۔ذات باری سے کوئی الگ چیز نہیں گویا ما تریدیه اس نظریہ میں معتزلہ سے قریب تر ہیں جبکہ اشاعرہ کا نظریہ یہ ہے کہ باری تعالیٰ کی ازلی صفات بھی غیر ذات ہیں لیکن قائم بالذات ہیں۔اس سے منفک نہیں ہو سکتیں۔ماتریدیہ قرآن کریم کو غیر مخلوق مانتے ہیں لیکن ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ حادث ہے کو یا وہ خلق اور حدث کے مفہوم میں فرق کرتے ہیں جبکہ اشاعرہ کہتے ہیں کہ قرآن کریم نہ مخلوق ہے اور نہ حادث بلکہ وہ قدیم ہے۔معتزلہ کے نز دیک قرآن کریم یا بالفاظ دیگر کلام الہی مخلوق اور حادث ہے اور اسے قدیم کہتا عیسائی ذہن کی پیداوار ہے۔یوحنا و مشتقی جو بنو امیہ کے زمانہ میں کئی اعلیٰ عہدوں پر فائز رہا وہ اپنے پیروؤں کو کہا کرتا تھا کہ جب تم سے مسلمان پوچھیں کہ تم مسیح کو کیا مانتے ہو تو جواب میں کہا کرو کہ ہم مسیح کو کلمتہ اللہ مانتے ہیں اور تمہارا بھی ایمان ہے کہ کلمہ قدیم ہے۔تا ہم اگر غور و فکر سے کام لیا جائے تو ظاہر ہوگا کہ قرآن کریم کے مخلوق اور حادث ہونے کی بحث دراصل نزاع لفظی ہے لیکن اس نظریہ کے اظہار پر پہلے معتزلہ کو بے حد تنگ کیا گیا ان کے خلاف قتل النساء : ١١٧ الحشر: ۲۵ الرعد: ۳۲ الانبياء : ۲۳