تاریخ افکار اسلامی — Page 28
تاریخ افکا را سلامی مَا تُرِيْدِيَه کی امتیازی خصوصیات ماتریدیہ کے نزدیک معرفت الہی اور صانع عالم کے وجود کو تسلیم کرنا ایک عقلی وجوب ہے اس لئے قبل نزولِ شریعت بھی اس پر علی الا جمال ایمان لانا ضروری ہے اور کونا ہی کرنے والے سے باز پرس ہوگی جبکہ اشاعرہ کہتے ہیں کہ یہ معرفت وجوب شرعی ہے اس لئے قبل نزول شریعت اس کوتا ہی کی نہ کوئی گرفت ہے اور نہ کوئی سزا۔ما تريديه کے نزدیک افعال الہی میں حکمت اور مصلحت ہوتی ہے اسی لئے اس نے ہر چیز کو خاص مصلحت اور حکمت کے تحت پیدا کیا ہے۔اسی طرح اس نے شریعت کے جو احکام نازل کئے ہیں وہ بھی اپنے اند ر حکمت اور مصلحت رکھتے ہیں کیونکہ وہ حکیم ہے اور فعل الحكيم لا يَخْلُو عَن الحكمة - جبکہ اشاعرہ کہتے ہیں کہ خدا پر ایسی کوئی پابندی نہیں اس نے جو چاہا اور جس طرح چاہا پیدا کر دیا اور جو حکم چاہا نازل فرما دیا۔وہ فعال لِمَا يُرِيدُ ہے اس لئے اس کے کاموں اور حکموں میں حکمت اور مصلحت تلاش کرنا بے معنے اور بے کا رہات ہے۔ماتریدیہ کے نزدیک افعال عباد میں ذاتی حسن اور ذاتی صحیح ہے یعنی کچھ افعال عقلاً اچھے ہوتے ہیں اور کچھ برے جوا چھے کام میں اللہ تعالیٰ ان کے کرنے کا حکم دیتا ہے اور جو برے ہیں ان سے روکتا ہے نیز افعال کے اس حسن یا فتح کا عقل اور اک کر سکتی ہے لیکن یہ ادراک اور علم مدار ثواب و عقاب نہیں۔ثواب و عقاب کا سوال نزول شریعت کے بعد پیدا ہوتا ہے جبکہ معتزلہ کہتے ہیں کہ یہ ادراک اور علم مدار ثواب و عقاب بھی ہے اچھا کام کرنے والے کو ثواب ملے گا اور برا کام کرنے والوں کو سزا دی جائے گی خواہ شریعت نازل نہ بھی ہوئی ہو۔اشاعرہ کا نظریہ یہ ہے کہ افعال عباد میں کوئی ذاتی حسن یا ذاتی فتیح نہیں ہوتا۔شریعت نے جس کام کے کرنے کا حکم دیا وہ حسن بن گیا اور جس کے کرنے سے روکا وہ بُرا اور قبیح ہو گیا گویا کسی فعل کے اچھا یا برا ہونے کا سوال نزول شریعت کے بعد پیدا ہوتا ہے۔