تاریخ افکار اسلامی — Page 30
کے فتوے دیئے گئے۔'' پھر جب معتزلہ کی باری آئی اور انہیں بنو عباس کے دربار میں رسوخ حاصل ہوا تو انہوں نے بھی بدلہ اتارنے میں حد کر دی اس طرح امت مسلمہ ایک لفظی نزاع کے سلسلہ میں بڑے لمبے عرصہ تک دست وگر یہاں رہی۔قتل و غارت اور تعذیب و تحقیر کا بازارگرم رہا۔فَإِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ - بعض محدثین کے نزدیک یہ بحث کہ قرآن کریم مخلوق ہے یا غیر مخلوق؟ ایجا د بندہ اور بد عت ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ کے دور میں ایسی بحث کہیں سننے میں نہیں آئی تھی پس یہ ایک کھلی بدعت ہے۔وَ كُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ ماترید یہ عقل کو بھی خاصی اہمیت دیتے ہیں اور جہاں عقل و نقل میں بظا ہر تعارض نظر آئے وہاں تطبیق کی کوشش کرتے ہیں اور بعض اوقات تاویل سے بھی کام لے لیتے ہیں۔علامہ ماتریدی کا کہنا ہے کہ نظر وفکر اور عقل و مدیر سے انکار کیسے ممکن ہے جبکہ خود خدا با ر با رنظر وفکر اور عبرت و موعظت کی تلقین کرتا ہے البتہ جو شخص قرآن وحدیث یعنی نقل سے آزاد ہو کر صرف عقل پر بھروسہ کرتا ہے اور اس کے بل بو نہ پر حکمت باری کا احاطہ کرنا چاہتا ہے وہ جادۂ حق سے ہٹنے کی جرات کرتا ہے اور عقل سے ایسا کام لینا چاہتا ہے جس کی وہ تعمل نہیں ہو سکتی اس لئے وہ بھی عقل پر ظلم کرتا ہے۔بہر حال ماتریدیہ کے ہاں نقل اور عقل روایت اور درایت کا ایک ایسا حسین امتزاج ہے جو دیکھا اور محسوس کیا جاسکتا ہے۔اشاعرہ روایت کو درایت پر ترجیح دیتے ہیں جہاں انہیں بظاہر عقل ++ قَالَ لِمَالِكِ رَجُلٌ مَا تَقُولُ فِيمَن قَالَ الْقُرْآنَ مَخْلُوقَ ، فَرَدَّ زِنَلِيقٌ كَافِرٌ اقْتُلُوهُ۔۔۔۔وَكَانَ يَقُولُ مَنْ قَالَ الْقُرآنُ مَخْلُوق يُوجَعُ ضَرْبًا وَيُحْبَسُ حَتَّى يَتُوبَ مالک بن انس صفحه ۱۷ عبد الحليم الجندى مطبوعه دارالمعارف القاهره (۱۹۸۳ء) یہ صرف فتوی نہ تھا بلکہ اس پر عمل بھی کیا گیا۔مثلاً امام سمعون جو امام مالک کے بڑے مقرب شاگر دیکھے اور مبصر میں مالکی مذہب کے امام تھے۔انہوں نے ابن ابی الجواد کو اتنے کوڑے مروائے کہ وہ مر گئے الزام صرف یہ تھا وہ قرآن کریم کو مخلوق مانتے تھے۔اسی الزام میں امام مالک کے شاگر د بہلول بن راشد کو کوڑے لگوائے گئے اور ان کے دوسرے شاگرد بهلول بن عمر الحبیبی جب فوت ہوئے تو ان کے جنازہ پر پتھراؤ کیا گیا اور ان کی نعش کو ایک وادی میں پھینکوا دیا گیا۔الاسلام والحضارة العربية جلد ۲ صفحه ۷۸ ۷۹ محمد كرد على مطبوعه لجنة التاليف والترجمة والنشر القاهره مصر طبع ثالث ١٩٦٨ء )