تاریخ افکار اسلامی — Page 392
تاریخ افکارا سلامی ٣٩٢ پوری ہو چکی ہیں اور اس کی بعثت کا وقت آچکا ہے تو وہ جو اس مقام بعثت کا مدعی ہے اس کی سچائی کے دلائل پر کیوں غور نہ کیا جائے؟ یہ حالات ایسے تھے کہ ساری مذہبی دنیا ایک ہادی اور مرسل کے انتظار میں تھی اور مسلمان بھی اس انتظار میں شامل تھے اور مسلمانوں کے مذہبی رہنما انیسویں صدی کے آخر میں پکار پکار کر کہہ رہے تھے کہ مہدی اور مسیح کے آنے کا یہی زمانہ ہے لیکن آنے والا جب وقت پر آیا تو اکثر علماء منکر ہو گئے اور اُس عظیم موعود کو تسلیم کرنے میں پس و پیش سے کام لیا اور قرآنی وعید بحسرة عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ تَسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ لے کے مورو بن گئے۔یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ ان ساری علامات کے وقوع کے وقت مہدی اور مسیح ہونے کا دعوئی سوائے حضرت مرزا غلام احمد صاحب کے کسی اور نے نہیں کیا۔اگر اس دعوی میں آپ بچے نہیں تو پھر اور کون ہے جس نے تقاضہ وقت کے عین مطابق اور ساری علامات کے پورا ہونے کے بعد اس منصب کا دعوی کیا ہو کیونکہ مہدی اور مسیح کے آنے کا وقت تو ہے کسی کو تو آنا چاہئے جو اسلام کی خدمت کے لئے کمر بستہ ہو۔مسیح موعود کی صداقت کی چوتھی دلیل یہ ہے کہ آپ نے دعوئی کے بعد دنیا کو یہ چیخ دیا کہ دعوئی سے پہلے کی میری زندگی پر غور کیا جائے اگر اُس میں کوئی عیب نہیں کوئی قابل اعتراض بات نہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ میں یکلخت بیٹھے بٹھائے ایک ایسے جھوٹ کا مرتکب بن جاؤں جو اللہ تعالی کے ہاں موجب مخضب و قہر ہے۔۴ صداقت کا یہ وہ معیار ہے جو اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ کے سامنے خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفے صلے اللہ علیہ وسلم کی صداقت پر کھنے کے لئے پیش فرمایا ہے۔یس آپ کے غلام نے بھی آپ کی پیروی میں دنیا کے سامنے یہی دلیل پیش کی کہ کون ہے جو میری پہلی زندگی میں کوئی عیب یا کھوٹ ثابت کر سکے۔آپ اس سلسلہ میں فرماتے ہیں۔دوستم کوئی عیب، افترا یا جھوٹ یا دعا کا میری زندگی پر نہیں لگا سکتے نا تم یہ خیال کرو کہ جو شخص پہلے سے جھوٹ اور افترا کا عادی ہے یہ بھی اُس نے جھوٹ بولا ہو گا۔ل یونس:۱۷۔اس پس ۳۱ ۲ یونس: ۱۷۔اس آیت کا ایک حصہ یہ ہے۔فقد لبثْتُ فِيكُمْ عَمَرَّ مِنْ قَدِيم أَفَلَا تَعْقِلُونَ -