تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 391 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 391

تاریخ افکا را سلامی ۳۹۱ صورت میں مسلمانوں کے لئے مصیبت بنی رہیں اور آخر سلطان صلاح الدین ایوبی کے دور میں بڑی حد تک ان جنگوں کا خاتمہ ہوا لیکن عیسائیت کی اس یلغار کی پسپائی کے بعد مغرب کی مسیحی اقوام نے مشرق وسطی اور دوسری مسلم دنیا پر تسلط حاصل کرنے کے لئے اپنی پالیسیاں بدل دیں اور مسلمانوں سے براہ راست تصادم کی پالیسی ترک کر کے دوسرے اقتصادی صنعتی اور علمی حربے استعمال کرنے شروع کر دیئے۔چنانچہ حسب پیشگوئی ۱۳۸۶ء کے قریب ان اقوام کی طرف سے بحری مہموں کا آغاز ہوا جن کی وجہ سے مغربی استعماری طاقتیں آہستہ آہستہ افریقہ اور ہندوستان کے بحری راستے معلوم کر کے آگے بڑھنے لگیں اور پھر وہ تجارت کے بہانے اکثر افریقہ، قریباً سارے ایشیا اور سارے امریکہ میں پھیل گئیں۔اسی تسلسل میں ۱۸۵۷ء کے بعد بر طانیہ کی ایسٹ انڈیا کمپنی کے انگریزوں نے سارے مسلم ہند پر تسلط حاصل کر لیا۔بہر حال بائبل اور قرآن کریم کے مطالعہ اور دوسرے تاریخی خزائن کی جانچ پڑتال سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ دجال سے مراد مغربی استعماری طاقتیں ہیں جن کا ایک الگ دینیاتی نظام ہے وہ صنعت و حرفت میں بھی سب سے آگے ہیں اور یا جوج ماجوج سے مراد اشترا کی نظام کی حامل حکومتیں ہیں کیونکہ یہ تشد و پسندانہ انقلابی تحریکات کی حامی بلکہ روح رواں ہیں دوسرے اس انقلابی نظام نے جن اقوام میں فروغ پایا ہے قدیم نوشتوں میں انہیں یا جوج ماجوج کا نام دیا گیا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں دجال اور یا جوج ماجوج کے ظہور کی یہ پیشگوئی کی وہاں مسلمانوں کو یہ خوشخبری بھی دی کہ ان نازک اور تباہ کن حالات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک منجی کو بھیجا جائے گا جس کا ایک لقب مہدی ہوگا اور دوسرا صحیح جس کی رہنمائی اور روحانی جذب کی برکت سے مسلمان بالخصوص اور ساری دنیا بالعموم اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرے گی اور دنیوی برکات کی نعمتوں سے بھی وہ مالا مال ہو جائے گی۔پس جبکہ اُس کے نزول کی ساری علامات قریباً قریباً اسی زمانہ میں مشرق کی طرف تا تاری فتنہ کا آغاز ہوا جو با لآخر بغداد کی تباہی اور عباسی خلافت کے خاتمہ پر ح ہوا تاہم ان علاقوں میں اسلام کی روحانی تلوار کے سامنے تاتاری مغلوب ہو گئے اور بعد میں ان علاقوں کے ترکوں کو اسلام کی تاریخ ساز خدمت کی توفیق ملی۔حزقی ایل باب ۳۸ آیت ۲