تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page iv of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page iv

فرقہ بندی کے رجحان کو فروغ کیونکر ہوا۔اکابرین و مفکرین نے اس کے اسباب اور وجوہات کی تلاش کی اور ان کو معین کیا۔فکری وحدت اور عملی اتحاد کے پارہ پارہ ہونے اور تکفیر بازی تک نوبت پہنچنے کی بنیادی وجہ وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ الله جَمِيعًا کے ارشاد کی نافرمانی ہے۔جس کا نتیجہ اور جس کے مظاہر تمام عالم اسلام پر منصہ ظہور ہیں۔مختلف اسلامی مکاتب فکر کی تشکیل اور مختلف فرقوں کا ظہور، پرورش اور پروان چڑھنے اور انجام پذیر ہونے کی المیہ داستان کا مطالعہ درد انگیز بھی ہے اور سبق آموز بھی۔قرآن کریم فرقان حمید اپنے پیروکاروں کو بار بار تدبر اور فکری صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کی دعوت دیتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تقدیر و تفقہ فی الدین کا درس دیا ہے اور فکری صلاحیتوں کو صیقل کرنے کی حوصلہ افزائی فرمائی۔آپ نے مثبت انداز فکر میں اختلاف رائے کو رحمت قرار دیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ علماء وفقہاء ربانی نے خیر القرون میں فقہی و علمی ترقی میں غیر معمولی کردار ادا کیا لیکن بعد ازاں اختلاف میں شدت پسندی اور انانیت نے اختلاف عقائد کو جنم دیا اور گروہ در گروہ تقسیم کا موجب ہوا جس نے ملت کی وحدت کو نقصان پہنچایا۔تاریخ اسلام کے ابتدائی دور میں مسلمانوں کے فکری ارتقاء اور اختلافات کے سلسلہ میں حضرت خلیفة اصیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ اپنی کتاب Revelation, Rationality, Knowledge & Truth میں تحریر فرماتے ہیں۔" تاریخ اسلام کے ابتدائی دور میں دو قسم کے اثرات نمایاں نظر آتے ہیں۔اول۔سب سے زیادہ غالب اور طاقتو راثر قرآن اور سنت کا تھا جس کی وجہ سے تصور علم میں ایک انقلابی تبدیلی پیدا ہوئی اور مطالعہ اور تحقیق مختلف جہتوں میں بے پایاں وسعت سے ہمکنار ہوئے۔دوم۔یونانی فلسفہ اور سائنس میں روز افزوں دلچسپی نیز ہندوستان ، ایران اور چین کے کلاسیکی فلسفہ کے مطالعہ نے بھی مسلمانوں کے فکری ارتقا میں ایک اہم کردار