تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page v of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page v

ادا کیا۔اس کے نتیجہ میں بہت سے بیرونی فلسفے آزادانہ طور پر یا اسلامی تعلیمات کے اختلاط سے مسلمانوں کی توجہ کا مرکز بن گئے۔ان مختلف فلسفوں میں دلچسپی اور ان کی قرآنی آیات سے مطابقت کی خواہش نے نئے مکاتب فکر کو جنم دیا جو اس لئے اسلامی کہلائے کہ ابتدائی طور پر یہ مکتبہ ہائے فکر اسلامی سوچ تعلیم اور عقائد کی گود میں پروان چڑھے تھے۔نئی جنا بدیشی فلسفہ کا کلیہ قرآنی مطالعہ پر مبنی خیالات سے اختلاط شروع ہوا۔اس حقیقت کے باوجود کہ چند تنگ نظر علماء نے ان کے وسیع النظر اور لچکدار رویہ کے باعث ان پر غیر اسلامی ہونے کی مہر لگا دی تھی اس بات میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ یہ عظیم علماء بنیادی طور پر مسلمان ہی تھے۔مختلف دنیوی علوم سے ان کا تعلق شاذ ہی ان کے ایمان کی راہ میں حائل ہوا ہو گا۔اس لحاظ سے ہر شخص کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ قرآن وسنت کے مطالعہ کے بعد خود فیصلہ کرے کہ ایسے مفکرین کا پیش کردہ فلسفیانہ نقطہ نظر اسلامی ہے یا نہیں۔تا ہم ان کے اخذ کردہ نتائج ہمیشہ بحث طلب رہے ہیں۔بعض کے نز دیک یہ نتائج اسلامی تعلیمات کے عین مطابق ہیں اور بعض کے نزدیک ایسا نہیں ہے۔تاہم کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ ان کی نیتوں پر شک کرے۔سچائی کے ہر متلاشی کا یہ حق ہے کہ قرآن اور سنت کو گہرائی میں جا کر سمجھنے کی مخلصانہ کوشش کے بعد اپنے نتائج اخذ کرے۔اسی طرح دوسروں کو بھی اس سے اختلاف کا حق حاصل ہے لیکن کسی کو یہ اختیار نہیں کہ وہ دوسرے کو اس بنیادی حق سے محروم کر دے کہ وہ جس چیز پر چاہے ایمان لائے اور خود کو حق پر سمجھے۔یادر ہے کہ قرآن وسنت پر مبنی ہونے کا دعوی کرنے والے ہر مکتبہ فکر کو براہ راست ان شواہد کی کسوٹی پر پرکھا جانا چاہیے جو وہ اپنی تائید میں پیش کرتا ہے۔اسلامی حکومت کے دور میں پینے والے تمام نظریات اور نقطہ ہائے نظر کو فی ذاتہ اسلامی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ان میں سے کچھ جزوی طور پر متضاد بلکہ ایک دوسرے کے بالکل برعکس تھے۔تاہم یہ بات ان کو اس حق سے محروم نہیں کرتی کہ ان کے ماننے