تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page iii of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page iii

بسم الله الرحمن الرحيم الرَّحْمَنِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ۔ھوالناصر عرض ناشر سید الانبیاء حضرت محمد مصطفی احمد مجتبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت پر آئندہ زمانہ میں آنے والےا دوا را ور حالات پر روشنی ڈالی ہے۔مسلمانوں کے تنزل اور انحطاط کے موجبات و محرکات اور علامات و کیفیات کی تفصیل بیان فرمائی کہ زمانہ نبوت سے دوری اور بعد کے ساتھ بتدریج مسلمانوں کی حالت بگڑتی جائے گی۔قرآن مجید فرقان حمید کی تعلیم اور میری اور میرے خلفائے راشدین المہدین کی سنت کی پیروی اور اطاعت سے اجتناب اور انحراف کے نتیجہ میں امت مسلمہ افتراق وانشقاق کا شکار ہو کر مختلف فرقوں اور گروہوں میں بٹتی جائے گی اور وحدت اور یگانگت کو سخت صدمہ پہنچے گا۔نتیجھا دنیا میں بھی مسلمانوں کو رسوائی وخذلان اور ذلت و حرمان کا سامنا ہوگا اور اخلاق بگڑ کر دین بھی ہاتھ سے نکل جائے گا اور صرف نام کے مسلمان رہ جائیں گے۔اپنی شامت اعمال اور دین سے بے اعتنائی اور اخلاقی برائیوں کی وجہ سے جہنمی قرار پائیں گے اور صرف ایک فرقہ ناجی ہو گا۔صحابہ نے عرض کی وہ کونسا فرقہ ہوگا تو فرمایا کہ وہ فرقہ جو میرے اور میرے صحابہ کے طرز عمل کو اپنائے گا۔وہ متحد اور جماعت کی صورت ہوگا یعنی اس کا ایک واجب الاطاعت امام ہوگا۔جس کی پیروی اور اطاعت ان کا شعار ہوگا۔اس زمانہ میں یہ پیشگوئیاں حرف بحرف پوری ہو چکی ہیں اور تمام علامات اور نشانیاں ظاہر ہو چکی ہیں۔وحدت ٹوٹی اور تسبیح دانہ دانہ ہوئی اور امام غائب ہو گیا۔ایک خدا، ایک رسول اور ایک کتاب کو ماننے والے فرقہ دور فرقہ تقسیم ہو گئے اور ایسا غلو اور شدت اپنائی کہ ہر گروہ نے باقی تمام کو کا فر جانا۔فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الْأَبْصَارِ