تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 371 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 371

تاریخ افکا را سلامی آپ نے ایک دفعہ فرمایا۔باقی رہی یہ بات کہ ہم نے نبوت کا دعوی کیا ہے۔یہ نزاع لفظی ہے۔مکالمہ مخاطبہ کے تو یہ لوگ خود بھی قائل ہیں۔اسی مکالمہ مخاطبہ کا نام اللہ تعالی نے دوسرے الفاظ میں نبوت رکھا ہے ورنہ اس تشریعی نبوت کا تو ہم نے بارہا بیان کیا ہے کہ ہم نے ہرگز ہرگز دعوی نہیں کیا۔اس طرح کی نبوت کا کہ گویا آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو منسوخ کر دے دعوی کرنے والے کو ہم ملعون اور واجب القتل جانتے ہیں۔ہم پر جو اللہ تعالیٰ کے فضل ہیں یہ سب رسول اکرم کے فیض سے ہی ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے الگ ہو کر ہم بیچ کہتے ہیں کہ کچھ بھی نہیں اور خاک بھی نہیں۔کوئی ہزار تپیا کرے بچپ کرے، ریا ضتہ شاقہ اور محنتوں سے مشت استخواں ہی کیوں نہ رہ جاوے مگر ہر گز کوئی سچا روحانی فیض بجز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اور اتباع سے کبھی میسر آسکتا ہی نہیں اور ممکن ہی نہیں ملے۔یہ سب عطیات اور عنایات اور یہ سب تفصلات اور احسانات اور یہ سب تلطفات اور توجہات اور یہ انعامات اور تائیدات اور یہ سب مکالمات اور مخاطبات بیمن متابوت و محبت حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ہیں" ہے۔جمال هم نشین در من اثر کرد وگر نہ من ہماں خاکم کہ ہستم اب ہم اس مدعی مهدویت اور مسیحیت کی صداقت کے دلائل اور اس کی بعثت کی علامات کسی قدر تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔مسیح موعود کی بعثت کے وقت کی ایک علامت یہ ہے کہ مسلمانوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ وہ اپنی سابقہ عظمت اور شان و شوکت سے محروم ہو جائیں گے۔اُن میں نہ اتفاق باقی رہے گا اور نہ اتحاد۔بہتر فرقوں میں وہ بٹ جائیں گے۔ہر فرقہ صرف اپنے آپ کو ناجی قرار دے گا۔روحانی، تمدنی اور سیاسی ہر لحاظ سے ان کی ساکھ ختم ہو جائے گی۔وہ تمام بدیاں جو کبھی ملفوظات جلد ۱ صفحه ۳۳۲ مطبوع الشركة السلامیہ ربوہ براہین احمدیہ ہر چہار حصص - روحانی خزائن جلد صفحه ۶۴۶