تاریخ افکار اسلامی — Page 372
تاریخ افکا را سلامی ۳۷۲ یہود میں پائی جاتی تھیں وہ سب مسلمانوں میں راہ پا جائیں گی۔قرآن کریم کی سمجھ اور اُس کے احکام پر عمل کا فقدان ہو گا۔اُس کے صرف الفاظ باقی رہ جائیں گے اور اسلام کا صرف نام رہ جائے گا۔ان کی مسجد میں بظاہر آباد اور بھری نظر آئیں گی لیکن ہدایت اور نجات کے لحاظ سے ویران دکھائی دیں گی۔اُن کے علماء آسمان کے نیچے بدترین مخلوق ہوں گے۔وہ خود فتنے اُٹھائیں گے اور پھر خود ہی ان فتنوں کی آگ میں جل بھن مریں گئے۔ان سب حالات کا ذکر قرآن کریم میں اجمالاً اور کتب حدیث میں تفصیلاً موجود ہے۔قرآن کریم مسلمانوں کی بگڑی حالت کا ذکر ان الفاظ میں کرتا ہے قَالَ الرَّسُولُ يُرَبْ إِن قَوْمِي اتَّخَذُوا هذا القرآنَ مَهْجُورًا یعنی رسول (عالم روحانی میں مسلمانوں کی حالت دیکھ کر ) کہیں گے ،اے میرے رب ! میری قوم نے اس قرآن کو ( بیکار سمجھ کر ) چھوڑ دیا ہے اور دوسرے فلسفوں اور بر باد کن نظریوں اور ہلاکت خیز راہوں کو اختیار کر لیا ہے۔حدیث رسول ہے کہ آپ نے فرمایا۔يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا يَبْقَى مِنَ الْإِسْلامِ إِلَّا اسْمُهُ، وَلَا يَبْقَى مِنَ الْقُرْآنِ إِلَّا رَسْمُهُ " یعنی لوگوں پر ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ اسلام کا فقط نام باقی رہ جائے گا اور قرآن کی صرف تحریر اور حروف کی شکل رہ جائے گی اس پر عمل کوئی نہیں کرے گا۔مسلمانوں کے مسلمہ لیڈر اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ یہ حالات مسلمانوں پر گزرے ہیں۔چنانچہ مولانا حالی نے مسلمانوں کی اس دردناک حالت کا مرثیہ پڑھا اور علامہ اقبال نے اس حالت کا اظہار ان الفاظ میں کیا۔وضع میں تم ہو نصاری تو تمدن میں ہنود یہ مسلمان ہیں جنہیں دیکھ کر شرمائیں یہود غرض وہ تمام بدیاں اور کمزوریاں اقتصادی نکبتیں اور بد حالیاں جوگزشتہ زمانہ میں بعثت انبیاء کی متقاضی ہو ئیں وہ تمام اپنی ساری شناعتوں کے ساتھ موجودہ مسلمانوں میں موجود ہیں۔وقت تھا وقت مسیحانہ کسی اور کا وقت میں نہ آتا تو کوئی اور ہی آیا ہوتا مشكوة المصابيح كتاب العلم، الفصل الثالث ل الفرقان : ٣١