تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 370 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 370

تاریخ افکا را سلامی منکرین الہام کے مقابلہ میں مردانہ تحدی کے ساتھ یہ دعوی کیا ہو کہ جس کو وجودالہام میں شک ہو وہ ہمارے پاس آکر اس کا تجربہ اور مشاہدہ کرے اور اس تجر بہ اور مشاہدہ کا اقوام غیر کو مزہ بھی چکھا دیا ہولے۔یہ آٹا را ور نشانات اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہے تھے کہ وہ "رجل موعود “ جس کی آمد کا انتظار مدت سے کیا جا رہا تھا۔وہ آپ کی ذات میں ہویدا ہونے والا ہے ضرورت زمانہ اور مسلمانوں کی حالت بھی اس کی متقاضی تھی اور ایسا ہی ہوا بھی۔چنانچہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب اپنی ماموریت کے بارہ میں ایک جگہ تحریر فرماتے ہیں۔اس صدی کے سر پر جو خدا کی طرف سے تجدید دین کے لئے آنے والا تھا وہ میں ہی ہوں نا وہ ایمان جو زمین پر سے اٹھ گیا ہے اس کو دوبارہ قائم کروں اور خدا سے قوت پاکر اُس کے ہاتھ کی کشش سے دنیا کو صلاح اور تقویٰ اور راستبازی کی طرف کھینچوں وہ مسیح جو امت کے لئے ابتدا سے موعود تھا اور وہ آخری مہدی جو تنزل اسلام کے وقت اور گمراہی کے پھیلنے کے زمانہ میں ہر اور است خدا سے ہدایت پانے والا اور اس آسمانی مائدہ کو نئے سرے سے انسانوں کے آگے پیش کرنے والا تقدیر الہی میں مقرر کیا گیا تھا جس کی بشارت آج سے تیرہ سو برس پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی وہ میں ہی ہوں۔آپ مزید فرماتے ہیں۔تمام اکابر اس بات کو مانتے چلے آئے ہیں کہ اس امت مرحومہ کے درمیان سلسلہ مکالمات الہیہ کا ہمیشہ سے جاری ہے اس معنے سے ہم نبی" ہیں ورنہ ہم اپنے آپ کو امتی کیوں کہتے۔ہم تو یہ کہتے ہیں کہ جو فیضان کسی کو پہنچ سکتا ہے وہ صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے پہنچ سکتا ہے اُس کے سوائے اور کوئی ذریعہ نہیں۔حد یث شریف میں بھی آیا ہے کہ آنے والا مسیح نبی بھی ہوگا او رامتی بھی ہوگا اور رامتی تو وہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے فیض حاصل کر کے تمام کمالات حاصل کرے۔اشاعة السنه نمبر ۶ جلدی صفحه ۱۷۰۱۶۹ ملفوظات جلد ۱ صفحه ۲۳۸ مطبوع الشركة الاسلامیہ لمیٹڈ تذكرة الشهادتین روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۴۰۳