تاریخ افکار اسلامی — Page 369
تاریخ افکارا سلامی میں بھی نہ تھا۔میرا وہ ایسا متکفل ہوا کہ کبھی کسی کا باپ ہرگز ایسا متکفل نہیں ہو گا۔میرے پر اُس کے وہ متواتر احسان ہوئے کہ بالکل محال ہے کہ میں ان کا شمار کر سکوں آپ نے ۱۸۸۰ء کے قریب اپنی مشہور زمانہ کتاب 'براہین احمدیہ“ کی طباعت کا سلسلہ شروع کیا۔یہ وہ زمانہ تھا جب کہ انگریزی حکومت کا غلبہ پورے عروج پر تھا اور پوری قوت کے ساتھ عیسائیت کی تبلیغ ہو رہی تھی اور بانی اسلام کے خلاف صد با کتا بیں شائع ہو رہی تھیں۔اسی زمانہ میں آریہ سماج اور مرہم سماج کی تحریکیں بھی اپنے شباب پر تھیں اور اسلام پر اعتراضات کی بوچھاڑ کر رہی تھیں۔مسلمانوں کی حالت اپنی جگہ ایسی نا گفتہ بہ اور قابل تشویش تھی کہ مولانا حالی نے ۱۸۷۹ء میں اس بے بسی اور بیکسی کا نقشہ یوں کھینچا۔رہا دین باقی نہ اسلام باقی اک اسلام کا رہ گیا نام باقی ایسے نازک حالات میں حضرت مرزا غلام احمد صاحب نے اپنی یہ کتاب تصنیف کی جس میں کلام الہی قرآن مجید کی حقانیت اور آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے زیر دست دلائل بیان کئے اس کتاب کی مقبولیت اور اس کی شاندار تاثیرات کا اندازہ اس تبصرہ سے لگایا جاسکتا ہے جو اُس زمانہ کے مشہور اہل حدیث عالم مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے اپنے رسالہ اشاعۃ السنه میں اس کتاب کے بارہ میں شائع کیا۔مولوی صاحب لکھتے ہیں۔ہماری رائے میں یہ کتاب اس زمانہ میں اور موجودہ حالت کی نظر سے ایسی کتاب ہے جس کی نظیر آج تک اسلام میں تکلیف نہیں ہوئی۔اور اس کا مؤلف بھی اسلام کی مالی و جانی و قلمی و لسانی و حالی و قالی نصرت میں ایسا ثابت قدم نکلا ہے جس کی نظیر پہلے مسلمانوں میں بہت ہی کم پائی گئی ہے۔ہمارے ان الفاظ کو کوئی ایشیائی مبالغہ سمجھے تو ہم کو کم سے کم ایک ایسی کتاب بتا دے جس میں جملہ فرقہ ہائے مخالفین اسلام خصوصاً فرقہ آریہ و یہ ہم سماج سے اس زور سے مقابلہ پایا جاتا ہو اور دو چارا ایسے اشخاص انصار اسلام کی نشان دیہی کرے جنہوں نے اسلام کی نصرت مالی و جانی و قلمی و لسانی کے علاوہ حالی نصرت کا بیڑا بھی اٹھالیا ہو اور مخالفین اسلام و کتاب البریہ - روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۹۵ حاشیه