تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 368 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 368

تاریخ افکا را سلامی ۳۶۸ اور حکمت کا تقاضہ تھا کہ اب نبی کے نام کا استعمال عام نہ ہو گا لے۔بہر حال مذکورہ بالا عظیم پیشگوئیوں کے مطابق عین وقت پر یہ مسیح آخر الزمان اور مہدی دوراں آگیا جس نے اپنی بعثت کی ایک غرض یہ بتائی کہ لفظی اور زبانی مسلمانوں کو حقیقی مسلمان بنایا جائے اور انہیں صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے رنگ میں رنگیں کیا جائے۔آپ کا نام نامی اور اسم گرامی "مرزا غلام احمد " ہے اور آپ کے والد ماجد کا نام مرزا غلام مرتضیٰ ہے۔آپ مغل بر لاس قبیلہ سے تعلق رکھتے ہیں۔آپ کے بزرگ سمر قد کے علاقہ سے آئے تھے اور اُس جگہ آکر آبا د ہوئے جس کا نام اب ”قادیان" ہے جو ضلع گورداسپورصو بہ مشرقی پنجاب ملک بھارت کا ایک قصبہ ہے۔آپ ۱۸۳۵ء میں پیدا ہوئے۔جب آپ کی عمر چونتیس یا پینتیس سال کے قریب تھی تو آپ کو اپنے والد ماجد کی وفات کے قریب ہونے کی بذریعہ الہام اطلاع ملی۔الہام کے عربی الفاظ یہ تھے۔وَ السَّمَاءِ وَالطَّارِقِ“ آپ نے اس الہام کا جو مفہوم سمجھا اُسے آپ نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔قسم ہے آسمان کی جو قضاء وقدر کا مبدء ہے اور قسم ہے اُس حادثہ کی جو آج آفتاب کے غروب کے بعد نازل ہو جائے گاتے۔" اس الہام سے آپ یہ سمجھے کہ آپ کے والد ماجد کا آج رات انتقال ہو جائے گا اور یہ الہام اس صدمہ کے موقع پر بطور تسلی ہے۔آپ کو اس موقع پر دوسرا الہام یہ ہوا کہ " أَلَيْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ آپ اس دوسرے الہام کے سلسلہ میں آپ لکھتے ہیں۔" " مجھے اُس خدائے عزوجل کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اُس نے اپنے اس مبشرانہ الہام کو ایسے طور سے مجھے سچا کر کے دکھلایا کہ میرے خیال اور گمان لے حضرت باقی سلسلہ احمدیہ علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء تھے۔اس لئے اگر تمام خلفاء کو نیسی کے نام سے پکارا جاتا تو امر ختم نبوت مشتبہ ہو جاتا اور اگر کسی فرد کو بھی نیسی کے نام سے نہ پکارا جا تا تو عدم مشابہت کا اعتراض باقی رہ جاتا کیونکہ موسیٰ کے خلفاء نبی ہیں۔(تذکرة الها ومتن روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۴۵) کتاب البریہ۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۹۳