تاریخ افکار اسلامی — Page 360
تاریخ افکا را سلامی ہیں جنہوں نے فتنہ خلق قرآن کا بڑی جرات کے ساتھ مقابلہ کیا اور مسند کے نام سے احادیث کا انسائیکلو پیڈیا مرتب کیا اور ان کو ان کارناموں کی وجہ سے اُن کے پیرؤں نے مہدی کہا ہے۔دوسرے ہندوستان کے مشہور بزرگ حضرت امام ربانی محمد دالف ثانی شیخ احمد سر ہندی ہیں جنہوں نے اکبر بادشاہ کے لادینی فتنہ کے استیصال کے لئے خاص کوششیں کیں اور سلسلہ نقشبندیہ کو اسلامی ممالک میں مستحکم کیا۔تیسرے بزرگ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ہیں آپ کا نام بھی احمد " تھا۔ہندوستان میں فروغ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے آپ کی مساعی نا قابل فراموش ہے۔بہر حال سطور بالا میں بعض روایات مہدی سے متعلق ایک تاریخی جائزہ پیش کیا گیا ہے اور ان روایات کی صحت کے پہلو کو واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔یہ نظریہ کہ درمیانی دور میں کئی مہدیوں" کے آنے کی روایات ملتی ہیں اس کی تائید ایک اور حدیث سے بھی ہوتی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں۔لَن تَهْلِكَ أُمَّةً أَنَا فِي أَوْ لِهَا وَ عِيسَى فِي آخِرِهَا وَالْمَهْدِيُّ فِي وَسَطِهَا یعنی وہ امت ہرگز ہلاک اور بر باد نہیں ہو سکتی جس کے آغاز میں میں ہوں اور جس کے آخر میں عیسی ہوں گے اور جس کے وسط میں مہدی آئیں گے۔شارحین حدیث حیران ہوتے ہیں کہ عام خیال کے مطابق مسیح اور مہدی نے اکٹھے اور ایک زمانہ میں آتا ہے۔مہدی کے درمیانی زمانے میں آنے کے کیا معنے ؟ حالانکہ اگر المہدی" کے لفظ پر غور کیا جائے تو حدیث کا مفہوم با لکل واضح ہو جاتا ہے کیونکہ المہدی“ کا الف لام یہاں عموم کے کے معنوں میں استعمال ہوا ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ درمیانی عرصہ میں کئی ایسے مصلح آئیں گے جو مہدی کے مقام پر فائز ہوں گے۔انہی کو دوسری احادیث میں مجدد کہا گیا ہے۔گو یا درمیانی عرصہ میں جب اُمت مختلف قسم کے بحرانوں سے دو چار ہو گی تو عام مہدی اور مجد داکر ان کو دور کریں گے اور جب آخری زمانہ میں تنزل کی انتہا ہوگی ، مصائب کی آندھیاں الشفا بتعريف حقوق المصطفى لقاضی عیاض جلد ۲ صفحه ۱۳ مطبوعه مصر ۲ کنز العمال جلد ۷ صفحه ۱۸۷ - جامع الصغير للسيوطى جلد ۲ صفحه ۱۰۲ ( الفاظ کے فرق کے ساتھ) سے اصول فقہ کا یہ ایک مسلمہ قاعدہ ہے کہ فکر منعرف باللام عموم کا فائدہ دیتا ہے اور اس کے معنے کئی اور متعدد" کے ہوتے ہیں۔ابو داؤد کتاب الفتن ه حجج الكرمه صفحه ۳۳۹ - اکمال الدین صفحه ۱۵۷ 22