تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 359 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 359

تاریخ افکا را سلامی ۳۵۹ ثَلاثًا ثُمَّ قَالَ يَا عَمَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْمَهْدِى مِنْ وُلْدِكَ مُوَفِّقًا رَاضِبًا مَرْضِيًّا لا يعني اے میرے اللہ عباس اور اس کی اولاد کی خاص مد وفر ما آپ نے تین بار یہ دعا کی اور پھر عباس کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: اے میرے چچا کیا آپ کے لئے یہ بات خوش آئند نہیں کہ آپ کی اولا د سے بھی مہدی ہو گا جو تو فیق یا فتہ اپنے نصیبہ پر خوش اور پسندیدہ خصال ہوگا ؟ آنحضرت کے دوسرے نام محمد سے متعلق بھی روایات ہیں کہ مہدی کا نام احمد ہوگا۔ایک حد میث کے الفاظ یہ ہیں۔عنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ خَلِيلِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَقُوْمُ السَّاعَةُ حَتَّى يَبْعَتَ اللهُ عِصَابَتَانِ حَرَّمَ اللهُ عَلَيْهِمَا النَّارَ ، عِصَابَةٌ تَغُرُو الهند وَهِيَ تَكُونُ مَعَ الْمَهْدِى اسْمُهُ أَحْمَد یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک جماعت ہندوستان میں مصروف جہاد ہوگی جس کی قیادت وہ امام مہدی فرمائیں گے جن کا نام احمد ہو گا۔اس حدیث کی سند کو ضعیف کی ہے لیکن واقعاتی لحاظ سے اس کی صحت مریج ہے۔ایک تو یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے مطابق ہے جس میں یہ صراحت ہے کہ مہدی کا نام میرے نام کے مطابق ہوگا۔دوسرے اس کا بنیادی تعلق آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی بعثت ثانیہ سے ہے جس کی مکمل بحث آئندہ صفحات میں پیش کی جارہی ہے تاہم درمیانی عرصہ میں بھی کئی بزرگ اس مفہوم کے مصداق بنے ہیں جنہوں نے اپنے اپنے وقت میں دینی اصلاح کے سلسلہ میں خاص خدمات سر انجام دیں اور یہ اُصول مسلّمہ ہے کہ کلام رسول جوامع الکلم کی صفت اپنے اندر رکھتا ہے اور اس میں کئی معانی پوشیدہ ہوتے ہیں۔بہر حال ان بزرگوں میں سے جن کا نام احمد تھا اور خاص کا رہائے نمایاں انہوں نے سر انجام دیئے ایک امام احمد بن حنبل کنزل العمال جلد ۷ صفحه ۲۶۰ و تاریخ دمشق الكبير لابن عساكر جلدی صفحه ۲۳۶ مطبوعه دار المسيره بیروت ۱۳۹۹ھ رواه البخاري في تاريخه بحواله النجم الثاقب حصه دوم صفحه ۱۳۴ مطبوعه مطبع احمدی پیر ۱۳۱۰ھ سے صاحب نجم الثاقب نے اس روایت کے بارہ میں تحریر کیا ہے کہ روایت کیا ہے اس کو امام بخاری نے کتاب التاریخ میں اپنی اور کہا اسناد میں اس کے مضائقہ نہیں اور ایسے ہی امام رافعی کی کتاب المہدی میں اور کہا ہے اسنَادُهُ لَا بَأْسَ بِہ اور ابن مردویہ و این شاهین و ابن ابی الدنیا نے بھی اس کو اخراج کیا ہے اور اتفاق کیا ہے انہوں نے اس کے حسن ہونے پر اور سیوطی نے بھی حسن کہا ہے۔کذا في اوراق الخوارزمی۱۲ - (ناشر)