تاریخ افکار اسلامی — Page 351
تاریخ افکا را سلامی La ۳۵۱ بھی مل سکتی ہے جس کے لئے امتی ہونا لازمی ہے " لے۔ایک دوسرے موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لفظ ”نبی“ کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا۔و نبی کا لفظ نبا سے نکلا ہے اور تب کہتے ہیں خبر دینے کو اور نبی کہتے ہیں خبر دینے والے کو یعنی خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک کلام پا کر جو غیب پر مشتمل زبر دست پیشگوئیاں ہوں۔مخلوق کو پہچانے والا اسلامی اصطلاح کی رو سے نبی کہلاتا ہے۔یا د رکھو کہ سلسلہ مکالمہ مخاطبہ اسلام کی روح ہے ورنہ اگر اسلام کو یہ شرف حاصل نہ ہوتا تو یقیناً اسلام بھی دوسرے مذاہب کی طرح ایک مردہ مذ ہب ہوتا ہے۔آپ ایک اور موقع پر فرماتے ہیں۔ہم اس بات کے قائل ہیں کہ خدا تعالیٰ کے مکالمات و مخاطبات اس امت کے لوگوں سے قیامت تک جاری ہیں۔اور یہ بالکل بیچ ہے کیونکہ یہی تمام اولیا ء امت کا مذہب رہا ہے۔۔عرفان کی وادیوں کے شناسا سابقہ بزرگ بھی اسی نظریہ کی تصدیق کرتے ہیں چنانچہ شیخ محی الدین ابن عربی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں معنى قَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الرَّسَالَةِ وَالنُّبُوَّةَ قَدِ انْقَطَعَتْ فَلا رَسُولَ : بَعْدِى وَلَا نَبِيَّ أَيْ لَا نَبِيَّ بَعْدِي يَكُونُ عَلَى شَرْعٍ يُخَالِفُ شَرْعِيْ بَلْ إِذَا كَانَ يَكُونُ تَحْتَ حُكْمِ فَرِيقِي۔۔۔۔فَهَذَا هُوَ الَّذِى انقطع و سُل بَابُهُ لَا مَقَام النبوة۔یعنی وہ نبوت جو آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم پر ختم ہو گئی ہے وہ تشریعی نبوت ہے اس لئے آپ کے بعد جو نبی ہوگا وہ آپ کی شریعت کے تابع ہوگا پس نبوت تشریعی منقطع ہوئی ہے مقام نبوت ختم نہیں ہوا کیونکہ نبوت کی یہ قسم امت میں جاری اور ساری ہے۔اسی طرح امام عبد الوہاب شعرانی لکھتے ہیں۔إعْلَمُ أَنَّ النُّبُوَّةِ لَمْ تَرْتَفِعُ مُطَلِقًا بَعْدَ مُحَمَّدٍ الله وَإِنَّمَا ارْتَفَعَ نُبُوَّةَ الشَّرِيعَ فَقَط حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۳۰/۲۹ ۲- ملفوظات جلده صفحه ۲۶۷ تا ۲۶۹ مطبوع الشركة الاسلامیہ ربوہ ے ملفوظات جلد ۱ صفحه ۳۷۳ مطبوع الشركة الاسلامیہ ربوہ ۳ فتوحات مکیه جلد ۲ صفحہ ۳ مطبوعہ دارصا در بیروت اليواقيت و الجواهر جلد۲ صفحه ۲۴ مطبع منشی نولکشور آگر و