تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 350 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 350

تاریخ افکا را سلامی گا اور اُن کے خوف کو امن کے حالات میں تبدیل کر دے گا۔وہ میری ہی عبادت کریں گے اور کسی چیز کو میرا شریک نہیں بنائیں گے اور جو لوگ اس (نشان کو دیکھنے ) کے بعد بھی ( ان خلفا ء کا ) انکار کریں گے وہ فاسق اور نا فرمان شمار کئے جائیں گے لے۔اس آیت کریمہ میں یہ وضاحت موجود ہے کہ جو جو روحانی اور دنیوی نعتیں اور درجات پہلے لوگوں کو ملے وہی نعمتیں اور وہی درجات امت محمدیہ کے پاک اور صالح لوگوں کو ملیں گے۔ایک ذرہ بھی کمیت میں فرق نہیں ہوگا اور کیفیت میں تو وہ اُن سے کہیں بڑھ کر ہوں گے جیسا کہ حد بیث شریف میں آیا ہے کہ امت محمدیہ نے اگر چہ پہلوں کے مقابلہ میں نسبتا قربانیاں پیش کرنے میں کم وقت لیا ہے لیکن پھل بہت جلد پایا ہے اور بہت زیادہ پایا ہے اور جب پہلی قوموں نے خدا کے حضور اس کی شکایت کی تو اللہ تعالی نے جواب میں فرمایا تمہارے کام کا جو معاوضہ مقرر ہوا تھا اس میں تو کوئی کمی نہیں ہوئی۔رہا امت محمدیہ کا انعام تو لديك الفَضْلُ مِنَ اللهِ وَكَفَى بِاللهِ عَلِيمًا ذِيْكَ یہ میر افضل ہے جسے چاہوں دوں۔۔آیت خاتم النبین سے بھی انہی معنوں کی تصدیق ہوتی ہے کیونکہ یہاں خاتم النبيِّين سے مراد ایسے وجود کا ظہور ہے جس کا فیضان سب پر حاوی ہے پہلوں نے بھی اُسی کے طفیل فیض پایا اور پچھلے بھی اُسی کے ذریعہ فیضان کے سب درجات حاصل کریں گے۔امام الترمان حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔وہ خاتم الانبیاء بنے مگر ان معنوں میں نہیں کہ آئندہ کوئی روحانی فیض نہیں ملے گا بلکہ ان معنوں سے کہ وہ صاحب خاتم ہے بجز اُس کی مہر کے کوئی فیض کسی کو نہیں پہنچ سکتا اور اُس کی امت کے لئے قیامت تک مکالمہ اور مخاطبہ الہیہ کا دروازہ کبھی بند نہیں ہوگا اور بجز اُس کے کوئی نبی صاحب خاتم نہیں ایک وہی ہے جس کی مہر سے ایسی نبوت ے اس سے واضح ہوتا ہے کہ جو کلمہ گوامت محمدیہ کے خلفاء کا انکار کرتا ہے اس کا یہ کفر مخفر دون كفر کے درجہ میں ہے اور وہ امت کے دائرہ سے خارج نہیں ہوتا اگر چہ وہ فاستوں ، قانون شکن اور نافرمانوں کے زمرہ میں شامل ہو جاتا ہے۔وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ - ✓ بخارى كتاب الصلوة باب من ادرك ركعة من صلوة العصر قبل الغروب