تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 352 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 352

تاریخ افکا را سلامی For یعنی مطلق نبوت ( جو کثرت مکالمہ و مخاطبہ کا نام ہے ) مرتفع نہیں ہوئی۔جو نبوت ختم اور منقطع ہوئی ہے وہ تشریعی نبوت ہے۔امام ربانی حضرت مجددالف ثانی اور امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اور مولانامحمد قاسم نا نتقوی کا نظریہ بھی یہی ہے۔۔مولانا ابوالحسنات محمد عبد الحی فرنگی محلی لکھتے ہیں۔بعد آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے یا زمانے میں آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے مجرد کسی نبی کا ہونا محال نہیں بلکہ صاحب شرع جدید ہونا البتہ ممتنع ہے۔مراتب قرب الہی کی اس بحث کے بعد اب طبعا یہ مرحلہ سامنے آتا ہے کہ اسلام میں ایک عظیم الشان ظهور یعنی مسیح اور مہدی کی آمد کا جو عقیدہ اور نظریہ مشہور ہے وہ اپنے اند ر کیا صداقت رکھتا ہے اور اُس کی ماہیت اور حقیقت کیا ہے اور اس بارہ میں جو روایات ہیں ان کا معیا رصداقت کس حد تک ثقہ مستند اور وزنی ہے۔یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ متعد دمسائل اپنے اصل کے لحاظ سے بڑے سادہ اور واضح المفہوم ہوتے ہیں لیکن بعد میں ان کے بارہ میں جو فلسفیانہ حاشیہ آرائی ہوتی ہے وہ انہیں مشکل اور مجلک بنا دیتی ہے مثلاً ہستی باری تعالی ، اس کی تو حید اور اس کی صفات کا عقیدہ کتنا سادہ اور عام الفہم ہے۔اسے ہر فرد بشر جان سکتا ہے، سمجھ سکتا ہے کہ اس کا ئنات کو پیدا کرنے والی ایک ہستی ہے۔وہ بڑی طاقتور ہے، وہ ایک ہے اور تمام اعلیٰ صفات سے متصف ہے لیکن جب اس عقیدہ میں فلسفیانہ بخشیں شامل ہوئیں تو یہ مسئلہ اتنا الجھا کہ چیستان بن کر رہ گیا۔کسی نے کہا وہ ایک بھی ہے اور اسی وقت وہ تین بھی ہے۔کوئی کہنے لگا وہ اور کائنات ایک ہی وجود کے مختلف مظہر ہیں۔کوئی کہنے لگا وہ اگر بولتا ہے تو اُس کا منہ بھی ہوگا۔اُس کی شکل بھی ہوگی ، اُس کا چہرہ ہے، آنکھیں ہیں ، کان ہیں ، ہاتھ ہیں، وہ آسمان پر ہے یا کائنات میں سمایا ہوا ہے۔غرض سینکڑوں نظریات نے اس مسئلہ کو اپنے گھیرے میں لے لیا۔یہی حال مافوق الطبعیات سے تعلق رکھنے والے ہر سوال کا ہے اور مسیح اور مہدی کے آنے کا عقیدہ بھی اس دائرہ سے باہر نہیں۔مکتوبات امام ربانی مکتوب نمبر ۱ ۳۰ جلد ا صفحه ۴۳۲- تفهیمات الهیه صفحه ۵۳ تحذير الناس صفحه دافع الوسواس في آثر ابن عباس صفحه ۱۶ مطبوعہ مطبع یوسفی فرنگی محل ا ھو۔طبع دوم